وجیندر سنگھ کے ڈوپ ٹیسٹ کا حکم

وجیندر سنگھ
Image caption وجیندر نے بیجنگ اولمپک میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا

بھارتی پنجاب کی پولیس کی جانب سے اولمپیئن باکسر وجیندر سنگھ پر منشیات کے استعمال کے الزامات کے بعد بھارتی وزارتِ کھیل نے قومی انٹی ڈوپنگ ایجنسی کو ان کا ڈوپ ٹیسٹ کرنے کو کہا ہے۔

وزارت کھیل کی جانب سے دباؤ کے بعد وجیندر سنگھ منشیات کا ٹیسٹ کرانے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔

ابھی تک وہ اس طرح کے کسی بھی ٹیسٹ سے بچنے کی کوشش کررہے تھے لیکن اب وہ اپنے پیشاب اور خون کے نمونے دینے کے لیے تیار ہوئے ہیں لیکن اپنے بالوں کے نمونے دینے کے لیے وہ ابھی بھی تیار نہیں ہیں۔

وجیندر سنگھ کے بارے میں پنجاب پولیس کے اس دعوی کے ایک مہینے بعد وزارت کھیل نے اس معاملے میں دخل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ناڈا کے ڈاریکٹر مکل چیٹرجی کو بھیجے گئے ایک پیغام میں وزارت کھیل نے کہا ہے وجیندر سنگھ ہیروئن کے استعمال کے بارے میں جو خبریں آرہی ہیں وہ پریشان کن ہیں اس لیے ان کا جلد سے جلد ٹیسٹ کیا جائے اور ٹیسٹ کے نتائج وزارات کو بتائیں جائیں۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ریاست پنجاب کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ بیجنگ اولمپک میں کانسی کا تمغہ حاصل کرنے والے بھارتی باکسر وجیندر سنگھ نےغیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی ہیروئین کا بارہا استعمال کیا تھا۔

حالانکہ وجیندر سنگھ نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

حال ہی میں پولیس نے بڑی مقدار میں ہیروئن برآمد کی تھی اور اس سلسلے میں ایک کینیڈین شہری سمیت پندرہ افراد کو حراست میں لیا گيا ہے۔ پولیس کے مطابق ان افراد سے پوچھ گچھ سے معلوم ہوا کہ ہیروئن وجیندر سنگھ کو بھی سپلائی کی جاتی تھی۔

پنجاب پولیس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق وجیندر نے تقریباً 12 بار اور ان کے دوسرے ساتھی رام سنگھ نے تقریباً پانچ بار ہیروئین کا استعمال کیا۔

کینیڈا کے رہنے والے مبینہ منشیات کے سمگلر كہلو عرف روبی کو پولس نے تین مارچ کو گرفتار کیا تھا اور چنڈی گڑھ کے بیرونی علاقے جرك پر واقع اس کی رہائش گاہ سے تقریباً 130 کروڑ روپے کی ہیروئن ضبط کی گئی تھی۔

پنجاب پولیس کے ترجمان کے مطابق مکّے باز رام سنگھ اور وجیندر سنگھ نے دسمبر 2012 سے فروری 2013 کے درمیان كہلو اور اس کے ساتھی ركي سے ذاتی استعمال کے لیے ہیروئن لی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ رام سنگھ نے دسمبر 2012 میں تنہا ہی ہیروئین خریدی اس کے بعد دونوں مکّے باز ساتھ مل کر منشیات خریدنے کے لیے جنوری میں ایک بار اور اس سال فروری میں دو بار گئے۔

اطلاعات کے مطابق وجیندر اور ان کے ساتھی رام سنگھ کو كہلو کی غیر قانونی سرگرمیوں کی مکمل معلومات تھیں۔ پولیس کے مطابق وجیندر کے موبائل سے کئی بار كہلو سے بات چیت بھی ہوئی۔

وجیندر سنگھ خود پڑوسی ریاست ہریانہ پولیس میں ڈی ایس پی ہیں۔ انھیں ریاستی حکومت نے یہ ملازمت باكسنگ چیمپیئن ہونے کی وجہ سے دی ہے۔

اسی بارے میں