محمد ادریس، کرکٹ کمنٹری کو الوداع

Image caption کرکٹ کمنٹری کو خیرباد کہنے کے بعد محمد ادریس کرکٹ کی ایک کتاب مرتب کر رہے ہیں

کرکٹ میچوں کا آنکھوں دیکھا احوال اپنے مخصوص انداز میں بیان کرنے والے محمد ادریس نے کمنٹری کو الوداع کہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

محمد ادریس کہتے ہیں کہ انہیں اس فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے کیونکہ وہ اس طویل سفر کے ایک ایک لمحے سے لطف اندوز ہوئے۔

انہیں سننے والوں کا بھرپور پیار ملا اور کئی ایسے ساتھی ملے جن کے ساتھ گزرا ہوا وقت ان کا قیمتی اثاثہ ہے۔

محمد ادریس نے جس دور میں کمنٹری کی اس میں عمرقریشی، چشتی مجاہد اور افتخار احمد انگریزی حلقے میں مضبوط گرفت رکھے ہوئے تھے جبکہ اردو کمنٹری میں منیر حسین اور حسن جلیل جیسے مستند کمنٹیٹرز موجود تھے لیکن اس کے باوجود محمد ادریس نے مخصوص غیرروایتی اور عوامی انداز کے سبب اپنی الگ پہچان کرائی۔

سامعین کو ان کی کمنٹری کا بے چینی سے انتظار رہتا تھا اور وہ آج بھی برسوں پرانے ادا کیے ہوئے دلچسپ فقرے نہیں بھولے ہیں۔

محمد ادریس کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ اصول بنا رکھا تھا کہ عام آدمی بھی ان کی کمنٹری سمجھ سکے اسی لیےانہوں نے سننے والوں کو بھاری بھرکم الفاظ سے مرعوب کرنے کے بجائے عام فہم انداز اختیار کیا اور جہاں ضرورت پڑی چٹکلوں اور محاوروں سے لطیف پہلو بھی اجاگر کیے۔

محمد ادریس کا کہنا ہے کہ کمنٹیٹر پیدائشی نہیں ہوتا۔اچھے کمنٹیٹر کے لیے سب سے پہلے اچھی آواز کا ہونا ضروری ہے جس کے بعد کھیل سے اس کا جنون کی حد تک لگاؤ اور کھیل کی تمام تر معلومات ہونا لازمی ہے۔جتنے بھی کمنٹیٹرز نے بین الاقوامی سطح پر نام کمایا وہ اس مقام پر کمنٹری کے تمام ضروری مراحل طے کر کے ہی پہنچے۔

محمد ادریس کے خیال میں انگلینڈ اور آسٹریلیا میں کرکٹ کمنٹری کا معیار ہر دور میں بہت بلند رہا ہے جبکہ ایشیا میں پاکستان کو وہ بھارت سری لنکا اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کمنٹری کے لحاظ سے سرفہرست سمجھتے ہیں۔

محمد ادریس کو اپنے کمنٹری میچز کی تعداد یاد نہیں البتہ یہ ضرور یاد ہے کہ 78-1977ء کی پاک انگلینڈ سیریز کے کراچی ٹیسٹ میں انہوں نے پہلی بار مائیک سنبھالا تھا۔ وہ اپنے ان گنت میچوں میں سے دو کو یادگار سمجھتے ہیں جن میں سے ایک فیصل آباد ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کا صرف 53 رنز پر ڈھیر ہونا اور دوسرا اقبال قاسم اور توصیف احمد کی جادوئی سپن بولنگ سے جیتا گیا بنگلور ٹیسٹ۔

محمد ادریس بنگلور ٹیسٹ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹاس جیت کر پاکستان نے پہلے بیٹنگ کی لیکن پہلے سیشن میں ہی اس کی چھ وکٹیں گر چکی تھیں۔ کھانے کے وقفے پر وہ اپنے ساتھی کمنٹیٹر ریحان نواز کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے تو بشن سنگھ بیدی نے ازراہ مذاق ان سے کہا کہ پریشان نہ ہوں آپ کی ٹیم صرف چالیس رنز مزید بنالے تو میچ جیت جائے گی۔

محمد ادریس نے صرف کھیل کے دلچسپ لمحات ہی ہوا کے دوش پر بیان نہیں کیے بلکہ مائیک گیٹنگ اور شکور رانا کا تلخ واقعہ اقبال سٹیڈیم فیصل آباد کے کمنٹری باکس سے جس کمنٹیٹر نے بیان کیا وہ محمد ادریس تھے۔

محمد ادریس نے جنوبی افریقہ ویسٹ انڈیز اور زمبابوے کے سوا کرکٹ کھیلنے والے تمام ملکوں میں کمنٹری کی لیکن انہیں ابھی تک اس بات کا افسوس ہے کہ جنوبی افریقہ کے دورے کے لیے ان کا نام منتخب کیے جانے کے باوجود آخری لمحات پر خارج کر دیا گیا۔

محمد ادریس اپنی طبعیت کے سبب نہ صرف کمنٹری باکس میں قہقہتے بکھیرتے رہے ہیں بلکہ فیصل آباد میں جب بھی کوئی غیرملکی ٹیم آتی تو ان کے گھر پر ہونے والی دعوتیں کرکٹرز اور صحافیوں کو مل بیٹھنے کا موقع فراہم کرتی رہی ہیں لیکن انہیں اب پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہ ہونے کا بہت افسوس ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ریڈیو پاکستان نے بھی اپنے کمنٹیٹرز ملک سے باہر بھیجنے بند کر دیے ہیں اور اس کی جگہ ’ڈبہ کمنٹری‘ شروع کردی ہے جس میں کمنٹیٹرز یہ تاثر دیتے ہیں جیسے وہ جس ملک میں سیریز ہورہی ہے وہیں سے بیٹھ کر کمنٹری کر رہے ہیں حالانکہ وہ پاکستان میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ یہ سننے والوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔

کرکٹ کمنٹری کو خیرباد کہنے کے بعد محمد ادریس کرکٹ کی ایک کتاب مرتب کر رہے ہیں اس کے علاوہ وہ قرآن کے ترجمے پر بھی کام کر رہے ہیں اور حکیم سعید سے اپنی دیرینہ وابستگی کا حق ادا کرتے ہوئے ان کی شخصیت پر مختلف مضامین کو کتابی شکل دے رہے ہیں۔

پاکستان کے کمنٹیٹرز نے گزشتہ دنوں پہلی بار ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہو کر کمنٹیٹرز کلب قائم کیا ہے۔ محمد ادریس اس کے پہلے صدر بنے ہیں اور اس کلب کے ذریعے وہ کمنٹیٹرز کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں