صالح محمد نئے ایشیئن سنوکر چیمپیئن

Image caption 29 ویں ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں پاکستان سمیت چودہ ممالک نے شرکت کی

افغانستان کے کیوسٹ صالح محمد نے پاکستان کے شہر کراچی میں 29 ویں ایشین سنوکر چیمپئین شپ جیت لی ہے۔

صالح محمد نے فائنل میں شام کے عمر الکوجا کو دو کے مقابلے میں سات فریمز سے شکست دی۔

سیمی فائنل میں صالح محمد نے ورلڈ جونیئر چیمپئن چین کے ژاہو ژن ٹونگ کو شکست دی تھی جبکہ عمرالکوجا نے ایران کے عامر سرکوش کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی۔

صالح محمد ایک طویل عرصہ پاکستان کی طرف سے کھیلنے کے بعد اب اپنے آبائی وطن افغانستان میں مقیم ہیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے قبل صالح محمد نے ایشین سنوکرچیمپئن شپ کے چار سیمی فائنلز کھیلے تھے جن میں انہیں شکست ہوئی تھی، یوں وہ پہلی بار ایشین ایونٹ کے فائنل میں پہنچے اور کامیابی حاصل کی۔

صالح محمد نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے بہترین سال پاکستان کی جانب سے کھیلنے میں گزارے ۔

انہوں نے کہا ’اگر پاکستان میں ان کی مستقل ملازمت اور محفوظ مستقبل کی ضمانت ہوتی تو وہ کبھی بھی افغانستان نہیں جاتے‘۔

خیال رہے کہ صالح محمد نے پاکستان کے لیے کھیلتے ہوئے کئی یادگار پرفارمنس دی وہ ورلڈ چیمپئن شپ کا فائنل کھیلے لیکن انہیں ہر وقت معاشی فکر پریشان کرتی رہی۔ اب کابل میں ان کا ذاتی سنوکر کلب ہے اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ مطمئین زندگی گزار رہے ہیں۔

صالح محمد کا کہنا ہے ’پاکستان میں سنوکر کے کھلاڑیوں کے معاشی مسائل جب تک ختم نہیں ہوں گے اس وقت تک سنوکر کا کھیل ترقی نہیں کرے گا۔ایسوسی ایشن کو کھلاڑیوں کی ملازمتوں کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں‘۔

29 ویں ایشین سنوکر چیمپئن شپ میں پاکستان سمیت چودہ ممالک نے شرکت کی۔

بھارتی سنوکر فیڈریشن نے چیمپئن شپ میں شرکت کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن آخری لمحات میں اس نے اپنے کھلاڑی کراچی بھیجنے سے انکار کر دیا۔

یہ چیمپئن شپ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے انتہائی مایوس کن رہی اور اس میں شریک آٹھ کھلاڑیوں میں کوئی بھی سیمی فائنل تک نہ پہنچ سکا۔

عالمی امیچر چیمپئن محمد آصف مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پری کوارٹرفائنل میں ہارگئے جبکہ سنہ 2010 دو دس کے ایشین فائنلسٹ محمد سجاد اور ابوصائم کی پیش قدمی کوارٹرفائنل میں آکر رک گئی۔

پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن نے چیمپئن شپ کا کامیابی سے انعقاد ایسے وقت میں کیا جب کراچی میں روزانہ دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔

چیمپئن شپ کے موقع پر خصوصی طور پر مدعو انٹرنیشنل بلیئرڈز اینڈ سنوکر فیڈریشن کے صدر جم لیسی نے بی بی سی ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان بلیئرڈز اینڈ سنوکر ایسوسی ایشن کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔

انہوں نے کہا ’دہشت گردی کسی بھی ملک میں کسی بھی وقت ہوسکتی ہے انہوں نے اپنے ملک آئرلینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی حالات ایک عرصے تک خراب رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت مشکل صورت حال سے دوچار ہے اور دوسرے ممالک کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کٹھن وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوں‘۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو ایشین ایونٹ میں شرکت کرنی چاہئے تھی۔

جم لیسی کے مطابق پاکستان ایشین ایونٹ کے بعد عالمی چیمپئن شپ کی میزبانی کی اہلیت رکھتا ہے اور یقیناً یہاں ایک بار پھر ورلڈ چیمپئن شپ منعقد ہوگی۔

اسی بارے میں