عامر اطلس ایشین سکواش چیمپیئن بن گئے

Image caption عامر اطلس 2004 میں پروفیشنل سرکٹ میں آئے تھے جس کے بعد سے اب تک وہ 9 ٹورنامنٹس جیت چکے ہیں

پاکستان کے عامر اطلس نے فائنل میں کویت کے عبداللہ المیزئن کو شکست دے کر ایشین سکواش چیمپئن شپ جیت لی ہے۔

پاکستان نے چودہ سال کے طویل انتظار کے بعد ایشین سکواش ٹائٹل دوبارہ حاصل کیا ہے۔

1998میں ایشین چیمپئن بننے والے آخری پاکستانی کھلاڑی زرک جہاں خان تھے۔

اسلام آباد میں کھیلی گئی چیمپئن شپ کے فائنل میں دونوں پاکستانی کھلاڑیوں کی موجودگی کے امکانات کو عبداللہ المیزئن نے ہی دھچکا پہنچایا تھا جب انہوں نے سیمی فائنل میں پاکستان کے فرحان محبوب کو شکست دی تھی۔

عامر اطلس نے سیمی فائنل میں ملائشیا کے آسیراف آزان کو ہرایا تھا۔ ان کا یہ دوسرا ایشین فائنل تھا۔ دو ہزار دس کی چیمپئن شپ کے فائنل میں عامر کو ملائیشیا کے اذلان سکندر نے شکست دی تھی۔

عامر اطلس کا تعلق سکواش فیملی سے ہے ان کے والد اطلس خان برٹش امیچر چیمپئن شپ کے رنر اپ رہ چکے ہیں جبکہ ان کے چچا جان شیر خان آٹھ بار کے عالمی چیمپئن ہیں۔

عامر اطلس باصلاحیت کھلاڑی ہیں جنہوں نے ایشین جونیئر ٹائٹل جیتا اور پھر برٹش جونیئر انڈر 13 اور انڈر 15 کے اعزازات بھی جیتے۔

وہ 2004 میں پروفیشنل سرکٹ میں آئے تھے جس کے بعد سے اب تک وہ 9 ٹورنامنٹس جیت چکے ہیں۔

ایشین سکواش چیمپیئن شپ میں آٹھ ممالک نے شرکت کی اور اس کے کامیاب انعقاد نے پاکستان سکواش فیڈریشن کے اس موقف کی تائید کر دی کہ وہ پاکستان میں کوئی بھی بڑا ایونٹ خوش اسلوبی سے منعقد کر سکتی ہے۔

بھارت نے چیمپئن شپ میں انٹری نہیں بھیجی تھی جس سے سکواش کی عالمی برادری میں اس ایونٹ کی سکیورٹی کے ضمن میں شکوک وشبہات بھی ظاہر کیے گئے تھے لیکن بڑی تعداد میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی آمد نے اس تاثر کو غلط ثابت کر دیا۔

ایشین سکواش فیڈریشن کے صدر ڈیوڈ موئی کا کہنا ہے کہ پاکستان کسی بھی بین الاقوامی ایونٹ کی میزبانی کے لیے محفوظ ملک ہے اور بین الاقوامی برادری کو اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

چند روز قبل کراچی میں ایشین سنوکر چیمپئن شپ بھی کھیلی گئی جس میں چودہ ممالک نے شرکت کی اور شریک کسی بھی کھلاڑی نے سکیورٹی پر عدم اطمینان ظاہر نہیں کیا۔

اسی بارے میں