انگلش فٹبال کی سکاٹش سرخی

Image caption سر الیکس فرگوسن نے پوری زندگی اپنے انداز کی اصول پسندی کے ساتھ گزاری

گول پر اپنی نشست سے اچھل کر خوشی کا اظہار کرنا، ٹچ لائن پر چیونگم چباتے ہوئے کھلاڑیوں کو ہدایات دینا اور حریف کے کسی خطرناک فاؤل پر غصے سے بےقابو ہو جانا۔ انگلش فٹبال میں اب یہ سب کچھ دیکھنے کو نہیں ملے گا کیونکہ سر ایلکس فرگوسن آئندہ سیزن سے میدانوں میں دکھائی نہیں دینگے۔

اکہترسالہ سر ایلکس فرگوسن نے پوری زندگی اپنے انداز سے گزاری ہے۔ وہ نہ صرف سر اٹھا کر چلے ہیں بلکہ سکون کی نیند بھی سوئے ہیں۔

یہ سب کچھ ایک ایسے ماحول میں دیکھنے کو ملتا رہا ہے جہاں صرف موجودہ سیزن میں ہی چھوٹی بڑی ٹیموں کے لگ بھگ پچاس مینیجرز کو برطرفی کا پروانہ تھما دیا گیا اور جہاں رابرٹو مینچینی، آرسن وینگر اور رافیل بینیٹیز جیسے گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے مینیجرز کے شب و روز بھی اپنی ٹیم کی غیرمستقل مزاج کارکردگی کے سبب بے چینی میں گزرے۔

عقابی نظر، چہرے پر اسکاٹش سرخی، ہمہ وقت سنجیدہ لیکن ہلکی سی مسکراہٹ نے سر ایلکس کی شخصیت کو پروقار بنایا لیکن درحقیقت کھیل پر ان کی دسترس، اپنے اور حریف کھلاڑیوں کی خوبیوں خامیوں کی بنیاد پر حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے مطلوبہ نتائج حاصل کرنےجیسی خوبیوں نے انہیں برطانوی فٹبال کی تاریخ کا کامیاب ترین مینیجر بنایا۔

سرالیکس فرگوسن نے ’ریڈ ڈیول‘ یعنی مانچسٹریونائیٹڈ کے ساتھ اپنی طویل وابستگی میں کارکردگی کا وہ پیمانہ مقرر کردیا جس کی برابری کرنا کسی بھی دوسری ٹیم کے لیے اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔

Image caption سر الیکس فرگوسن اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کے بھی منیجر رہے لیکن جو شہرت انہیں مانچسٹریونائٹڈ کے منیجر کی حیثیت سے ملی وہ تاریخ کا حصہ بن چکی ہے

مانچسٹر یونائیٹڈ کی فتوحات میں ایرک کینٹینا اور روئے کین سے لے کر ڈیوڈ بیکہم اور وین نسٹل روئے تک اور کرسٹیانو رونالڈو سے وین رونی، رابن وان پرسی اور ہرنینڈس تک کھلاڑیوں ہی کے گن گائے جاتے رہے ہیں لیکن میدان میں ان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے کب اور کیسے کام لینا ہے، یہ سر ایلکس فرگوسن سے زیادہ اچھی طرح اور کون جانتا ہے۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو مانچسٹریونائٹڈ کے چھبیس برسوں میں وہ تیرہ سیزن کیسے آتے جن میں مانچسٹر کی فضا جیت کے شادیانوں سے گونج اٹھی تھی۔

سر ایلکس فرگوسن کون ہیں ؟

وہ بچہ جو شپ بلڈنگ کے ایک ہیلپر کے گھر میں پیدا ہوا اور جو بڑا ہوکر شپ یارڈ میں کام کرتا رہا۔ کوئنز پارک سے فٹبال کا شوق بھی پورا کرتا رہا اور اسے سکاٹ لینڈ کی ٹیم تک لے آیا۔

ایلکس فرگوسن سکاٹ لینڈ کی ٹیم کے بھی منیجر رہے لیکن جو شہرت انہیں مانچسٹریونائٹڈ کے مینیجر کی حیثیت سے ملی وہ تاریخ کا حصہ بن چکی ہے۔

Image caption جس کھلاڑی کو بھی سر الیکس کا ساتھ میسر آ گیا وہ انمول موتی بن گیا

سر الیکس کی کامیابی کے پیچھے ان کے کچھ اصول رہے ہیں۔ ڈسپلن کے معاملے میں انہوں نے کبھی بھی سمجھوتہ نہیں کیا اور ہمیشہ اس نکتے کو باور کراتے آئے کہ کھلاڑی چاہے کتنا ہی قدآور کیوں نہ ہو وہ ٹیم سے بڑا نہیں۔

ان کی ’مائی وے اور دی ہائی وے‘ ( my way or the highway ) والی سوچ نے کسی بھی کھلاڑی کو حد سے تجاوز نہیں کرنے دیا اور جس نے بھی یہ حد پار کی اسے اولڈ ٹریفرڈ کی حدود سے ہی باہر ہونا پڑا۔ ڈیوڈ بیکہم اس کی ایک بڑی مثال ہیں لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ جس کھلاڑی کو بھی سر ایلکس کا ساتھ میسر آ گیا وہ انمول موتی بن گیا۔

اگلے سیزن میں سر الیکس فرگوسن کی جگہ ڈیوڈ موئز ہونگے۔ مبصرین ابھی سے مانچسٹر یونائیٹڈ کے منظرنامے میں ممکنہ تبدیلی کی طرف اشارہ کرچکے ہیں اور چند ایک نے تو ڈیوڈ موئیز سے ان کی تمام تر صلاحیتوں اور خوبیوں کے اعتراف کے باوجود اظہار ہمدردی بھی کر لیا ہے۔

اسی بارے میں