ایورسٹ سر کرنے کی 60 سالہ تقریبات

Image caption سنہ 1953 کے بعد سے لیکر اب تک 4,500 سے زیادہ افراد یہ چوٹی سر کرچکے ہیں

نیپال میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کیے جانے کی 60 ویں سالگرہ بدھ کو منائی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے جن کا مقصد کوہ پیماؤں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔

نیپال میں ہونے والی ان تقربیات میں ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والے کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری اور شرپا تن زنگ کے حوالے سے ایورسٹ کے بیس کیمپ میں ایک میراتھن ریس کا انتظام کیا گیا۔

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں سنہ 1953 میں ماؤنٹ ایورسٹ کو سب سے پہلے سر کرنے والی ٹیم کے زندہ بچ جانے والے ایک رکن کنچا شرپا نے ان تقریبات کے سلسلے میں نکالے جانے والے جلوس میں شرکت کی۔

سنہ 1953 کے بعد سے لیکر اب تک 4,500 سے زیادہ افراد یہ چوٹی سر کرچکے ہیں۔

نیپال میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ان تقریبات کے ساتھ ساتھ نیپالی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ اتنی تعداد میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے کوہ پیماؤں کی وجہ سے وہاں کتنی آلودگی پیدا ہوئی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق حکام ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے خواہشمند کوہ پیماؤں کی تعداد کو محدود کرنے پر بھی غور کررہے ہیں۔

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ماؤنٹ ایورسٹ سر کیے جانے کی 60 ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقد کیے جانے والی تقریبات میں سنہ 1953 میں ماؤنٹ ایورسٹ کو سب سے پہلے سر کرنے والی ٹیم کے زندہ بچ جانے والے ایک رکن کنچا شرپا نے بھی شرکت کی۔

ان تقریبات میں رین ہولڈ میسنر بھی شریک تھے جو 8,000 میڑ سے بلند دنیا کی تمام چوٹیوں کو سر کر چکے ہیں۔

کنچا شرپا تن زنگ کے بیٹے جملنگ تن زنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد ماؤنٹ ایورسٹ کو تجارتی مرکز بنانے اور کوہ پیماؤں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے خوش نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کے والد چاہتے ہیں کہ ماؤنٹ ایورسٹ کو ایک سال کے دوران زیادہ سے زیادہ 35 کوہ پیماؤں کو سر کرنے کی اجازت دی جائے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے والد اس بات پر خوش ہیں کہ نیپال کی کوہ پیمائی کی صنعت میں شرپا کمیونٹی کو نوکریاں دی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ روایتی طور پر مئی میں ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیے جانے کا سب سے بہتر وقت ہے اور رواں سال کے دوران متعدد کوہ پیماؤں نے اسے سر کیا ہے۔

حالیہ ہفتوں میں 500 سے زائد افراد نے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا ہے۔

اسی بارے میں