آئی پی ایل سکینڈل غیر متوقع نہیں، احسان مانی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے سابق صدر احسان مانی کا کہنا ہے کہ انہیں آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ سکینڈل پر قطعاً حیرانی نہیں ہوئی ہے کیونکہ اسے ہونا ہی تھا۔

احسان مانی نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا ’آئی پی ایل میں میچ فکسنگ کا خطرہ ہر وقت موجود تھا اور آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ کئی سال سے کہہ رہا تھا کہ اسے آئی پی ایل ہی کی سب سے زیادہ فکر تھی لیکن بی سی سی آئی نے اس پر زیادہ توجہ نہیں دی۔‘

انھوں نے کہا کہ اس پورے معاملے میں آئی سی سی کی خاموشی کو وہ اس کی مجبوری سمجھتے ہیں۔ اگر وہ اس وقت آئی سی سی میں ہوتے تو فوری طور پر بی سی سی آئی سے بات چیت کرتے اور یہ جاننے کی کوشش کرتے کہ وہ کس انداز میں اس اہم معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آئی سی سی کے سابق صدر کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں آئی سی سی کا شامل ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ آئی پی ایل میں صرف بھارتی کرکٹرز نہیں کھیلتے بلکہ کئی ممالک کے کرکٹرز اس کا حصہ ہیں اور اس کا اثر پوری دنیا کی کرکٹ پر پڑ سکتا ہے۔

احسان مانی کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی کو تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اس کے نتیجے سےآئی سی سی کو آگاہ کرنا ہوگا اور یہ آئی سی سی پر منحصر ہوگا کہ وہ ان تحقیقات پر اطمینان ظاہر کرے یا پھر انہیں چیلنج کرتے ہوئے مزید معلومات یا تحقیقات کا کہہ سکتی ہے لیکن ذاتی طور پر انہیں اس بات پر حیرانی ہے کہ سری نواسن بدستور بی سی سی آئی کے صدر ہیں حالانکہ ان کے داماد کو پولیس حراست میں لے چکی ہے اور ان کی اپنی فرنچائز پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔

احسان مانی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں آئی پی ایل کے صدر راجیو شکلا کا خاموش رہنا اور سری نواسن کا بار بار میڈیا میں آ کر بیان دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصل کنٹرول بی سی سی آئی کے ہاتھ میں ہے۔

احسان مانی نے چیمپئنز ٹرافی کے امپائرز پینل سے اسد رؤف کو ہٹانے کے آئی سی سی کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی سی سی کو اس بارے میں میڈیا رپورٹس سے زیادہ علم ہوگا۔ آئی سی سی نے یہ سوچا کہ ذہنی دباؤ میں اسد رؤف کے لئے امپائرنگ کرنا بہت مشکل ہوتا لہذا وہ یہ وقت اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور اس تنازعے سے خود کو کلیئر کرانے میں صرف کرسکتے ہیں۔

احسان مانی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے خود کو اسد رؤف کے معاملے سے الگ کرکے اچھا نہیں کیا ۔ اگر وہ قصوروار ہیں تو یقیناً ان کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن انہیں تنہا چھوڑنا درست نہیں۔ اسد رؤف ایک معتبر امپائر کے طور پر قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور پاکستان کے ون ڈے میچوں میں وہ پاکستانی امپائر کے طور پر ذمہ داری نبھاچکے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے ماضی میں بھی اپنے کرکٹرز کے معاملے میں پہل کرنے سےگریز کیا اور دوسروں کو کارروائی کرنے کا موقع فراہم کردیا۔

اسی بارے میں