معاوضوں کا موازنہ کرتے ہیں کارکردگی کا نہیں

Image caption ’نہ جانے سلیکٹرز کپتان اور کوچ کونسا چھپا ہوا ٹیلنٹ باہر لانا چاہتے ہیں‘

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ہر سیریز اور ہر دورے میں ناکامی کے بعد اگلی ہی سیریز میں دوبارہ انہی چہروں سے ٹیم کو سجانے کا کھیل کافی عرصے سے جاری ہے اور یہ کھیل بڑی خوبصورتی کے ساتھ کھیلنے کا جواز سلیکٹرز اور کپتان دونوں کے پاس موجود ہے۔

کپتان اکثر شاکی رہتے ہیں کہ سلیکٹرز نے ٹیم منتحب کرکے دے دی ہم کیا کریں؟ سلیکٹرز سے پوچھیں تو وہ سرکاری ہینڈ آؤٹ کی طرح بنا بنایا بیان داغ دیتے ہیں کہ ٹیم کپتان کی پسند ناپسند سے منتخب کی ہے ۔

سپانسرڈ مشروب کے کمرشلز میں پرکشش معاوضوں کے بدلے ’دل مانگے اور‘ کہنے والے ان کرکٹرز کو شاید ان کروڑوں شائقین کی معصوم خواہشوں کا اندازہ نہیں جو ان سے کچھ اور نہیں صرف اچھی کارکردگی مانگتے ہیں۔

ان کرکٹرز کو اس بات کا ہمیشہ گلہ رہتا ہے کہ ان کے معاوضے دنیا کے دوسرے کرکٹرز کے مقابلے میں کم ہیں لیکن وہ اپنی غیرمستقل اور مایوس کن کارکردگی کا موازنہ دوسروں سے کرنے کے لیے تیار نہیں بلکہ اس بات پر بھی برا سا منہ بنالیتے ہیں کہ معاوضے کارکردگی کی بنیاد پر طے ہونے چاہیئیں۔

ایک کرکٹر ایسے ہیں جنہوں نے بارہ سال قبل بین الاقوامی کرکٹ کی ابتدا کی تھی اور دو ہزار چھ تک وہ ٹیم میں آتے جاتے رہے البتہ دو ہزار دس کے بعد سے ٹیم میں ان کا آنا لگا ہی ہوا ہے لیکن نہ جانے سلیکٹرز کپتان اور کوچ اب ان میں چھپا ہوا کونسا ٹیلنٹ باہر لانا چاہتے ہیں۔

ان صاحب نے چالیس ٹیسٹ اور اٹھاون ون ڈے کھیل لیے ہیں لیکن77 ٹیسٹ اننگز میں صرف تین سنچریوں ( ان میں سے بھی آخری سنچری چار سال پہلے بنی تھی ) کی انتہائی اوسط درجے کی کارکردگی کے باوجود اوپنر کی پوزیشن پر ان کی ٹیم میں جگہ بنالی جاتی ہے۔

دو ہزار دس میں وہ صرف دو نصف سنچریاں سکور کر پائے لیکن اس کے لیے انہیں سولہ ٹیسٹ اننگز کھیلنے کا موقع فراہم کیا گیا۔

اٹھاون ون ڈے اننگز میں ان کے نام کے آگے صرف ایک سنچری درج ہے جو دو ہزار تین میں بنی تھی اور دو ہزار دس کے بعد سے وہ پچیس ون ڈے اننگز کھیل چکے ہیں جن میں صرف سات نصف سنچریاں اسکور کی ہیں۔

Image caption ایک سابق کپتان ایسے ہیں جنہیں ٹیم میں شامل کرنے کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ آل راؤنڈر ہیں

ٹیم میں ایک سابق کپتان ایسے ہیں جنہیں ٹیم میں شامل کرنے کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ وہ آل راؤنڈر ہیں لیکن برائے نام بولنگ کر کے وہ ایک مستند مڈل آرڈر بیٹسمین کی حیثیت سے کھیلتے رہے ہیں لیکن شاید وہ اپنی نوعیت کے پہلے اور انوکھے مڈل آرڈر بیٹسمین ہیں جنہوں نے چار سال کے عرصے میں ایک بھی نصف سنچری اسکور کیے بغیر 29 ون ڈے اننگز کھیل ڈالی ہیں اور پھر بھی ٹیم میں موجود ہیں۔

ان سابق کپتان نے آخری بار کسی ون ڈے میچ میں پورے دس اوورز تین سال پہلے کیے تھے اور جنوبی افریقہ کے حالیہ دورے میں پانچ میں سے چار میچز ایسے تھے جن میں ان سے بولنگ ہی نہیں کرائی گئی اور جس میچ میں انہوں نے بولنگ کی وہ بھی صرف تین اوورز۔

کرکٹ کی باریکیوں کو کم سے کم سمجھنے والا بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ یہ سابق کپتان نہ صرف ٹیم میں ہیں بلکہ کرکٹ بورڈ کے سینٹرل کنٹریکٹ کی بی کیٹگری سے مستفید ہورہے ہیں۔

کچھ ایسی ہی صورتحال ایک اور کرکٹر کے ساتھ بھی درپیش ہے جنہیں اس دعوے کے ساتھ ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے کہ وہ دوسرے وکٹ کیپرز سے بہتر بیٹسمین ہیں۔ ان کی وکٹ کیپنگ جیسی بھی ہے وہ سب کے سامنے ہے لیکن جہاں تک بیٹنگ کا تعلق ہے تو آخری بار ون ڈے میں سنچری بنانے کے بعد سے وہ اب تک پچاس اننگز کھیل چکے ہیں جن میں سے پنتیس اننگز وہ اوپنر یا پھر ون ڈاؤن بیٹسمین کی حیثیت سے کھیلے ہیں لیکن ان پچاس اننگز میں ان کی صرف آٹھ نصف سنچریاں شامل ہیں۔ یہ کارکردگی انہیں ٹیم میں منتخب کرنے والوں کے دعووں کی نفی کرتی ہے۔

پاکستانی کرکٹ میں چند مخصوص چہروں کی اس کہانی کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ یہاں بین الاقوامی معیار سے قریب تر فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ ٹیلنٹ سامنے نہیں آتا جو بین الاقوامی کرکٹ میں قدم جماسکے لہذا تجربے کے نام پر کھیلنے والے انہی چند کرکٹرز کی چاندی رہتی ہے اور اگر کوئی ٹیلنٹ سامنے آبھی جاتا ہے تو اس کے لیے ان مخصوص چہروں کا حصار توڑنا آسان نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں