جیت بھی گئے تو یہ اتفاقیہ ہوگی: رمیز

Image caption بیٹنگ کی ناکامی ایک پرانی تکلیف ہے۔ ٹیم ذہنی دباؤ میں آ جاتی ہے: رمیز راجہ

انگلینڈ میں جاری آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی انتہائی مایوس کن کارکردگی نے جہاں شائقین کو سخت مایوس کیا ہے وہیں کرکٹ پنڈت بھی دلبرداشتہ دکھائی دیتے ہیں۔

چیمپئنز ٹرافی کی کمنٹری کے لیے انگلینڈ میں موجود سابق کپتان رمیز راجہ کہتے ہیں کہ اس ٹیم میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ بھارت کو ہرا سکے اور اگر ہرا بھی دیا تو یہ محض اتفاق ہوگا۔

رمیز راجہ نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ پاکستانی ٹیم بھارت کو نہیں ہرا سکتی۔جو حقائق ہیں انہیں تسلیم کرنا ہوگا۔ اس ٹیم نے دونوں میچوں میں معمولی سکور کیا ہے اور دونوں میچز ہارے ہیں۔ شائقین اور پنڈت سمجھ گئے ہیں کہ اگر بھارت کے خلاف میچ جیت گئے بھی یہ فلوک (اتفاقیہ) ہوگا۔

رمیز راجہ نے کہا کہ یہ ٹیم کوارٹرفائنل اور سیمی فائنل تک جھانسہ دے سکتی ہے لیکن اس میں چیمپئن بننے والی بات نہیں کیونکہ اس میں کوالٹی نہیں ہے۔

رمیز راجہ نے کہا کہ انہیں اس لیے بھی بہت زیادہ مایوسی ہوئی ہے کہ پاکستانی ٹیم کی بالنگ بہت اچھی تھی اگر بلے باز 250 کے لگ بھگ بھی سکور کرتے تو بالنگ انہیں سیمی فائنل تک لا سکتی تھی۔

انگلینڈ میں کنڈیشنز بیٹنگ کے لیے سازگار تھیں اور اگر ان کنڈیشنز میں بھی یہ بلے باز رنز نہیں کر سکتے تو پھر کہاں کریں گے؟

نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق رمیز راجہ نے کہا کہ بیٹنگ کی ناکامی ایک پرانی تکلیف ہے۔ ٹیم ذہنی دباؤ میں آ جاتی ہے۔ کچھ مینٹل بلاک ہے، کچھ تکنیکی مسائل ہیں، ٹیلنٹ کا فقدان ہے، کئی بلے باز 30 سال سے زائد کے ہو چکے ہیں اور سوال یہ ہے کہ یہ مزید کتنا عرصہ کھیل سکتے ہیں؟

رمیز راجہ نے کہا ’پاکستان کے پاس عالمی معیار کا ٹیلنٹ نہیں ہے ۔عالمی مقابلوں میں جہاں پریشر گیم ہوتے ہیں وہاں اگر اعلیٰ معیار کے کرکٹر نہیں ہوں گے تو وہ ایکسپوز ہو جائیں گے۔ پاکستانی بلے باز ڈومیسٹک کرکٹ اور فرینڈلی کنڈیشنز میں یقیناً کامیاب رہتے ہیں لیکن بڑے میچوں میں وہ ناکام ہو جاتے ہیں‘۔

رمیز راجہ نے کہا پاکستانی بلے باز کرس گیل کی طرح ہیں جو آئی پی ایل میں ہر بالر کا حشر کر دیتے ہیں لیکن جیسے ہی ان کے سامنے ٹاپ کوالٹی کی بالنگ آتی ہے وہ ایکسپوز ہو جاتے ہیں۔

رمیز راجہ نے کہا کہ پاکستانی بلے بازوں کی یہ خامیاں صرف اسی صورت میں ہی ٹھیک ہو سکیں گی جب پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ کو معیاری بنایا جائے گا۔

اس وقت پاکستان کی فرسٹ کلاس کرکٹ ان کرکٹرز کو کچھ بھی نہیں سکھا رہی ہے جو انٹرنیشنل کرکٹ میں آتے ہیں۔

اسی بارے میں