فواد احمد کو ایشز سیریز میں موقع ملنے کا امکان

Image caption آسٹریلیا نے فواد احمد کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے قانون میں ترمیم کی

آسٹریلوی کرکٹ سیلکٹر جان انوریٹی نے کہا ہے کہ پاکستانی نژاد لیگ سپنر فواد احمد کے اگلے ماہ شروع ہونے والی ایشز سیریز میں حصہ لینے کے امکانات روشن ہیں۔

پاکستان کے علاقے سوات سے تعلق رکھنے والے اکتیس سالہ فواد احمد نے تین سال پہلے اس بنیاد پر آسٹریلیا میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی کہ طالبان کے ہاتھوں ان کی جان کو خطرہ ہے۔

تین سال پہلے سوات کی وادی میں طالبان کا کنٹرول تھا جسے ایک فوجی آپریشن کے ذریعے ختم کرایا گیا۔

پچھلے ہفتے آسٹریلوی قانون میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے سبب فواد احمد کی پاسپورٹ کی درخواست تیزی سےنمٹائی جا سکے گی۔

آسٹریلوی سیلکٹر جان انویرٹی کے خیال میں دس جولائی سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ سے پہلے فواد احمد کو پاسپورٹ مل سکتا ہے اور پاسپورٹ ملنے کی صورت میں وہ آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے کے اہل ہوں گے۔

اگر فواد احمد آسٹریلیا کی نمائندگی کرتے ہیں تو وہ دوسرے پاکستانی نژاد آسٹریلوی ہوں گے جنہوں نے آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔ اس سے پہلے عثمان خواجہ آسٹریلیا کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اس ایشز سیریز کے لیے آسٹریلوی ٹیم کا حصہ ہیں۔

Image caption فواد احمد نے تین سال قبل آسٹریلیا میں پناہ حاصل کی

جان انویرٹی نے کہا ہے کہ فواد احمد کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ ’وہ ایک ایسا نوجوان ہے جو کچھ سال پہلے سمجھتا تھا کہ پاکستان میں اسے تکلیف پہنچائی جا رہی ہے۔ وہ آسٹریلیا آتا ہے جہاں اس نے کرکٹ کھیلنی شروع کی۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہ ایک اچھا لیگ سپنر ہے اور وہاں سے اس کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ ‘

کچھ لوگوں نے فواد احمد کو ایشز سیریز میں آسٹریلوی ٹیم کا حصہ بنانے کی مخالفت کی ہے۔ البتہ جان انویرٹی کے مطابق فواد احمد کی شمولیت کے فیصلے پر عوامی ردعمل انتہائی مثبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آسٹریلوی معاشرے کو یکجا کرنے کے لیے بھی ایک اچھا قدم ہو گا۔

جان انویرٹی نے کہا کہ اگر فواد احمد کو پہلے ٹیسٹ کے لیے منتخب کر لیا جاتا ہے تو وہ اپنے مخصوص حالات کی وجہ سے انتہائی پریشر میں ہو گا۔’ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بطور ٹیم فواد احمد کی حفاظت کریں تاکہ وہ کھیل پر مکمل توجہ مرکوز کر سکے۔‘