فٹبال کا عالمی کپ، اس بار ٹکٹیں سستی

فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے کہا ہے کہ برازیل میں آئندہ سال منعقد ہونے والے عالمی کپ کے مقابلوں کے لیے تاریخ کی سستی ترین ٹکٹیں دستیاب ہوں گی۔

فیفا کے سیکرٹری جنرل جیروم ویلک کے مطابق عالمی کپ کے لیے ٹکٹوں کی قیمتوں کا اعلان انیس جولائی کو کیا جائے گا ۔ انھوں نے بتایا کہ عالمی کپ کے ستر فیصد میچوں کے ٹکٹوں کی قیمت گزشتہ عالمی مقابلوں کی نسبت کم ہو گی۔

فیفا کے سیکرٹری جنرل ویلک اور صدر سیپ بلیٹر دونوں نے اتوار کو برازیل میں ختم ہونے والے کنفڈریشنز کپ کی تعریف کی۔

یہ ٹورنامنٹ عوامی احتجاج کی زد میں رہا۔ برازیل کے مختلف شہروں میں ہونے والے عوامی مظاہرے وہاں آئندہ سال منعقد ہونے والے ورلڈ کپ پر لگائے جانے والے بھاری اخراجات، ملک میں کرپشن اور عوام کے لیے ناسازگار سہولیات کی فراہمی کی وجہ کیے گئے۔ لیکن فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کہتے ہیں کہ لاکھوں مظاہرین کے سڑکوں پر نکلنے کے باوجود کنفڈریشنز کپ کامیاب رہا۔

پیر کو ریو ڈی جنیرو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فیفا کے صدر نے کہا ’میں خوش ہوں کہ ہم اچھے نتائج سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سماجی گڑبڑ ختم ہونے کا تاثر مل رہا ہے۔ مجھے یہ معلوم نھیں کہ یہ کتنے عرصے تک رہے گی‘۔

غیر یقینی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے فیفا کے صدر نے تسلیم کیا کہ اس بات کے خدشات تھے کہ شائد برازیل 2014 کے عالمی کپ کے لیے تیار نھیں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کنفڈریشنز کپ کے آغاز سے کچھ عرصہ قبل ہی سٹیڈیمز کی تعمیر مکمل ہوئی تھی اور اسی وجہ سے یہ شکوک و شبہات تھے کہ اس ملک کا بنیادی ڈھانچہ کس طرح بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والے ٹورنامنٹ سے نمٹ سکے گا؟

فیفا کے صدر نے مزید کہا’جب یہ مقابلہ شروع ہوا تو کچھ غیریقینی کی صورتحال تھی کہ کیا ہو گا؟

عالمی کپ کے موقع پر برازیل میں سکیورٹی کے معاملات کے بارے میں فیفا کے حکام کسی بھی قسم کا تبصرہ نھیں کر رہے لیکن ان کا موقف ہے کہ یہ حکومتی معاملہ ہے۔

Image caption برازیل میں حالیہ دنوں حکومت مخالف مظاہرے کیے گئے

گزشتہ دنوں منعقد ہونے والے کنفڈریشنز کپ کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئیں اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا، ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں اور ان پر مرچوں بھرا سپرے کیا گیا۔

ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئیں ہیں کہ اتوار کو جب ریو ڈی جنیرو کے ماراکانہ سٹیڈیم میں کنفڈریشنز کپ کا فائنل میچ کھیلا جا رہا تھاتو باہر موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے ایک بار بھر آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ اس گیس سے سٹیڈیم میں موجود لوگ بھی متاثر ہوئے۔

ان مظاہرین کی جانب سے فٹ بال کے عالمی تنظیم فیفا کو سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مظاہرین کا موقف تھا کہ فٹ بال کی عالمی تنظیم جو کہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہے، منافع کما رہی ہے ۔ عوامی فنڈز سے فٹ بال کے بین الاقوامی مقابلے کے انعقاد کے لیے عوامی فنڈز سے بڑے پیمانے پر سرمایہ لگایا جا رہا ہے ۔مظاہرین سمجھتے ہیں کہ اس سے بہتر یہ تھا کہ یہ سرمایہ سکولوں اور ہسپتالوں پر لگایا جاتا۔

اسی بارے میں