نوے روز میں کرکٹ بورڈ میں انتخابات کروانے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی کو کام جاری رکھنے اجازت دے دی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمعرات کو پی سی بی کے عبوری چیئرمین تقریری کیس کی سماعت جسٹس شوکت صدیقی کی صدارت میں ہوئی۔

عدالت نے کرکٹ بورڈ کے عبوری چئیرمین نجم سیٹھی پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انھیں 90 دن کے اندر بورڈ میں انتخابات کروانے کا حکم دیا۔

اس موقع پر کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ ذمہ داری طویل عرصے کے لیے قبول نہیں کی اور وہ بورڈ اور ٹیم میں نظم و ضبط لانے کی کوشش کریں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین چوہدری ذکاء اشرف کو مزید کام کرنے سے روک دیا تھا۔

عدالت نے یہ حکم آرمی کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ میجر ریٹائرڈ ندیم سڈل کی درخواست پر دیا تھا جس میں اُنہوں نے استدعا کی تھی کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے انتخابات میں قواعدو ضوابط کی پاسداری نہیں کی گئی۔

میجر ریٹائرڈ ندیم سڈل نے موقف اختیار کیا تھا کہ کرکٹ بورڈ میں بورڈ آف گورنرز کی نمائندگی درست نہیں تھی کیونکہ اس میں پنجاب کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی تھی جو نہ صرف خلاف ضابطہ ہے بلکہ کرکٹ بورڈ کے آئین سے بھی متصادم ہے۔

درخواست گُزار کا کہنا تھا کہ چیئرمین کرکٹ بورڈ کے انتخابات کے لیے جو طریقہ کار گُزشتہ ایک دہائی سے تشکیل نہیں دیا جا سکا اُس کو چند ہفتوں کے دوران ہی حمتی شکل دے دی گئی۔

درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا تھا کہ ان انتخابات کو کالعدم قرار دے کر نئے انتخابات منعقد کروائے جائیں تاکہ دوسرے لوگوں کو بھی انتخابات میں حصہ لینے کا موقع مل سکے۔

عدالت نے درخواست گُزار کے موقف کو تسیلم کرتے ہوئے چوہدری ذکاء اشرف کو مزید کام کرنے سے روک دیا تھا۔

اس سے پہلے 13 مئی کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے ذکا اشرف کے انتخاب اور طریقۂ کار کو چیلنج کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں