پی سی بی کے چیئرمین کا انتخاب

Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ میں تقریباً پندرہ برسوں سے چیئرمین صدرِ پاکستان کی صوابدید پر تعینات ہوتا رہا ہے

پاکستان کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی نے اس عزم کا اظہار تو کیا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے جمہوری انداز میں الیکشن کروانے کے لیے کوشش کریں گے لیکن اس کام کو سر انجام دینا دودھ کی نہر نکالنے جیسا مشکل مرحلہ ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں گذشتہ چند ہفتوں سے بحرانی کیفیت طاری ہے۔ ملک میں گیارہ مئی کے عام انتخابات سے پہلے ہی معطل شدہ چیئرمین ذکا اشرف نے ایک نمایندہ آئین کے تحت الیکشن کروا کر خود کو پی سی بی کا چئرمین منتخب کروا لیا لیکن پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں معطل کر دیا اور کچھ دن تو پی سی بی بنا چیئرمین ہی کام کرتا رہا۔

عدالت ہی کی ہدایت پر حکومتِ وقت نے معروف صحافی اور سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی کو پی سی بی کا عبوری چیئرمین مقرر کیا۔ عدالت نے انہیں بھی طلب کیا اور آج ان پر یہ بھاری ذمہ داری عائد کر دی گئی کہ پی سی بی کے چیئرمین کے انتخاب کے لیے انتخابات کروائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ میں تقریباً پندرہ برسوں سے چیئرمین صدرِ پاکستان کی صوابدید پر تعینات ہوتا رہا ہے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفرازنواز کے مطابق اس طریقہ کار سے اگر کوئی کرکٹ کا علم رکھنے والی شخصیت آئی تو اس نے اچھے نتائج بھی دیے لیکن زیادہ تر ایسے چیئرمین آئے جو کوئی بہت اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے اور چونکہ ان کی کوئی جانچ پڑتال بھی نہیں ہوتی تھی اس لیے وہ اپنی من مانی کرتے رہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے کچھ عرصے سے کرکٹ کھیلنے والے تمام بورڈز کو کہا ہے کہ وہ اپنا نظام جمہوری طریقے سے چلائیں جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہ ہو۔

ذکا اشرف جس آئین کے تحت منتخب ہوئے تھے اس میں پی سی کے پیٹرن یعنی صدرِ پاکستان نے دو افراد کا انتخاب کیا اور انہی میں سے ایک کو چن لیا گیا لیکن مبصرین نہ تو اس آئین کو جمہوری سمجھتے ہیں اور نہ ہی یہ انتخاب جمہوری کہلا سکا۔

ماہر قانون دان ایڈوکیٹ آفتاب گل کا کہنا ہے کہ اگر چیئرمین کا انتخاب جمہوری طریقے سے کرنا ہے تو یا آئین کو تبدیل کیا جائے یا اس میں مناسب ترامیم کی جائیں۔

ذکا اشرف جس طریقہ کار کے تحت منتخب ہوئے اس میں گورننگ باڈی کے اراکین نے انہیں ووٹ ڈالے جس پر کرکٹ کے حلقوں کی جانب سے کافی احتجاج کیا گیا۔

آخر کس کس کو حق ملنا چاہیے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے انتخاب میں ووٹ ڈال سکے۔ اس ضمن میں کرکٹ کے معروف تجزیہ نگار شاہد ہاشمی کا کہنا ہے کہ تمام شہروں کی اسوسی ایشنز کے نمائندوں کو اس کا حق ملنا چاہیے۔

کیا شہروں کو اور اسوسی ایشنز کو حق ملنے سے صاف اور شفاف طریقے سے نیا چیئرمین منتخب ہو سکے گا۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر عامر سہیل کو اس میں کافی قباحتیں دکھائی دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اصل میں نچلی سطح پر ہی بہت بد عنوانی ہے اور اگر کوئی بھی دولت مند شخص ووٹ خرید سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس میں مزید تباہی ہو گی اس لیے ضروری ہے کہ شفافیت کا عمل نیچے سے شروع ہو تاکہ اسو سی ایشنز میں ایسے لوگ ہوں جنہیں کرکٹ کا مستقبل عزیز ہو تب ہی وہ اچھا چیئرمین منتخب کر سکیں گے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے فرمان کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کے لیے انتخابات کا عمل تو اب نا گزیر ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جمہوری انداز سے یہ انتخابات کروانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے عبوری چیئرمین اس کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں اور قباحتوں کو کیسے دور کرتے ہیں۔

اسی بارے میں