ومبلڈن فائنل میں اینڈی مرے کی تاریخی جیت

Image caption 77 سال بعد کسی برطانوی کھلاڑی نے ویمبلڈن کا سنگلز مقابلہ جیتا ہے

ومبلڈن ٹینس ٹورنامنٹ میں مردوں کے سنگلز فائنل میں برطانوی کھلاڑی اینڈی مرے نے عالمی نمبر ایک سربیا کے نوواک جوکووچ کو ہرا کر یہ خطاب اپنے نام کر لیا۔

اینڈی مرے نے جوکووچ کو 4 - 6، 5 - 7 اور 4- 6 سے ہرا کر یہ تاریخی جیت حاصل کی ہے۔

77 سال میں یہ اعزاز جیتنے والے وہ پہلے برطانوی کھلاڑی بن گئے ہیں۔ اس سے قبل 1936 میں فریڈ پیری ومبلڈن سنگلز کا خطاب جیتنے والے آخری برطانوی تھے۔

پہلے سیٹ میں اینڈی مرے نے 4-6 سے جیت کر سبقت حاصل کی۔

دوسرے سیٹ میں ایک مرتبہ جوکووچ 1-4 سے آگے تھے لیکن پھر مرے کھیل میں واپس آئے اور دوسرا سیٹ پانچ پانچ کی برابری پر لا کھڑا کیا۔ پھر انھوں سبقت لے لی اور دوسرا سیٹ 5-7 سے جیت لیا ہے۔

اس طرح مرے نے 0-2 کی اہم سبقت حاصل کر لی ہے۔

کھیل کے دوران تین بار ومبلڈن چیمپیئن رہنے والے بورس بیکر نے کہا کہ جوکووچ کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کیسے ہار رہے ہیں۔

سٹیڈیم میں موجود برطانیہ کے حامی تماشائیوں نے ’لیٹس میک ہسٹری’ یعنی چلو تاریخ رقم کرتے ہیں کا بینر اٹھا رکھا تھا۔

دونوں سٹار ٹینس کھلاڑیوں کے درمیان انتہائی گرم موسم میں ومبلڈن کا فائنل کھیلا جا رہا ہے۔

بی بی سی موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 1976 میں بورگ اور ناستاسی کے درمیان کھیلے گئے فائنل مقابلوں کے بعد سے یہ سب سے زیادہ گرمی والا فائنل ہے۔

جمعہ کو کھیلے گئے دونوں سیمی فائنلز کے مقابلے کافی سخت رہے تھے۔

جوکووچ نے ارجنٹینا کے مارٹن ڈیلپوٹرو کو 5 - 7, 6 - 4, 6 - 7 (2-7) 7 - 6 (8-6), اور 3 - 6 سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی تھی۔

جبکہ اینڈی مرے نے پولینڈ کے جرزی جانووچ کو 7 - 6 (7-2)، 4 - 6، 4- - 6، 3 - 6 سے شکست دی۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے سٹار کھلاڑی اینڈی مرئے لگاتار دوسری بار ویمبلڈن کے فائنل میں پہنچے ہیں۔ گذشتہ سال فائنل میں انہیں روجر فیڈرر سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں