آئی او سی نے متوازی الیکشن مسترد کر دیے

Image caption آئی او سی نے لیفٹنٹ جنرل ( ریٹائرڈ) عارف حسن سے کہا ہے کہ وہ بین الصوبائی رابطے کے وزیر کو اس تمام صورتحال سے آگاہ کریں

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی ( آئی او سی ) نے پاکستان میں متوازی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے الیکشن اور قیام کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان میں حقیقی اولمپک ایسوسی ایشن وہی ہے جس کے سربراہ لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ ) عارف حسن ہیں ۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے کھیلوں کی بین الاقوامی فیڈریشنز کو بھی ہدایت کر دی ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی سپورٹس فیڈریشن یا اس کا کوئی بھی آفیشل متوازی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ منسلک پایا جائے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ کھیلوں کی انٹرنیشنل فیڈریشنز اس ضمن میں پہلے ہی کارروائی شروع کر چکی ہیں اور انٹرنیشنل باسکٹ بال فیڈریشن نے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو بھیجے گئے دو مختلف خطوط میں یہ بات واضح کی ہے کہ پاکستان میں متوازی اولمپک ایسوسی ایشن کا قیام سراسر اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

آئی او سی نے آٹھ جولائی کو ہونے والے عبوری کمیٹی کے نام پر قائم متوازی ایسوسی ایشن کے انتخابات پر بھی سخت ناراضی ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ یہ الیکشن آئی او سی کی بار بار کی تنبیہہ کے باوجود منعقد کئے گئے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن سے کہا ہے کہ وہ بین الصوبائی رابطے کی وزارت کے نئے وزیر ریاض پیرزادہ کو اس تمام صورتحال سے آگاہ کریں ۔

آئی او سی نے وفاقی وزیر کو اپنے ہیڈکوارٹر کے دورے کی بھی دعوت دی ہے تا کہ وہ وہاں آ کر اس تنازعے کو ختم کرنے کے سلسلے میں بات چیت کر سکیں۔

یاد رہے کہ پاکستانی کھیلوں میں حکومتی مداخلت کا یہ تنازعہ کافی عرصے سے جاری ہے اور اس ضمن میں پاکستان کی اولمپک رکنیت خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں