’عدالتی فیصلے سے بورڈ کے معمولات متاثر ہو رہے ہیں‘

اسلام آباد ہائی کورٹ
Image caption عدالت نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے چیئرمین کا انتخاب کرائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے جس میں بورڈ کے عبوری چیئرمین نجم سیٹھی کو اہم نوعیت کے فیصلے کرنے سے روکا گیا تھا۔

اس اپیل کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ کرے گا۔

یاد رہے کہ اسلام آْباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے چند روز قبل اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ نجم سیٹھی پاکستان کرکٹ بورڈ کے قائم مقام نہیں بلکہ نگراں چیئرمین ہیں۔

نجم سیٹھی نے نگراں چیئرمین بننے کے بعد معین خان کو ٹیم کا نیا چیف سلیکٹر مقرر کیا تھا تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں انہیں ایسا کرنے سے روک دیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کو بتایا کہ عدالت کے فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کئی اہم فیصلے کرنے سے قاصر ہے جس سے کرکٹ کے روزمرہ کے معمولات متاثر ہورہے ہیں۔

تفضل حیدر رضوی نے کہا کہ کئی ایسی باتیں ہیں جنہیں عدالتی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے حالانکہ وہ پٹیشن یا دلائل کا حصہ نہیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین کے اختیارات کے بارے میں فیصلے کی بھی غلط تشریح کا اندیشہ ہے لہذا پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپیل دائر کی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے نشریاتی حقوق کا معاملہ بھی نمٹانے سے قاصر ہے اور اس معاملے میں تاخیر سے اسے بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو عارف علی خان عباسی نے کہا ہے کہ نشریاتی حقوق دینے کا معاملہ بہت اہم اور حساس ہے اور یہ نئے منتخب چیئرمین پر چھوڑ دینا چاہئے۔

عارف علی خان عباسی نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ قائم مقام یا نگراں چیئرمین دونوں میں سے کوئی بھی ٹی وی نشریاتی حقوق کا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں اور اگر ایسا کیا گیا تو اس کے منفی اثرات سامنے آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا 1994 کا آئین تمام مسائل کا حل ہے لیکن جنرل باڈی کو اس کے جمہوری حق سے محروم کردیا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایک سابق چیئرمین نے بڑی ہوشیاری سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سکیورٹی اینڈ ایکسچنج کمیشن آف پاکستان سے رجسٹریشن ختم کرادی۔

آج بھی اگر1994 کا آئین بحال کردیا جائے تو یہ ایک مقبول اور قانونی فیصلہ ہوگا۔

عارف عباسی نے کہا کہ اس وقت پاکستانی کرکٹ میں منیجمنٹ کا نام ونشان نہیں ہے ۔اس سے زیادہ حیرت کی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی اور لاڑکانہ کو قومی کرکٹ چلانے کے اہم فیصلوں میں شریک کرلیا گیا جہاں کرکٹ نہیں ہوتی وہ پاکستان کی کرکٹ کیسے چلائیں گے؟۔

اسی بارے میں