ہاکی ٹیم کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لے گی؟

Image caption انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کو تسلیم نہیں کرتی

پاکستانی ہاکی ٹیم کی آئندہ ماہ گلاسگو سکاٹ لینڈ میں ہونے والے بیسویں کامن ویلتھ گیمز میں شرکت خطرے سے دوچار ہوگئی ہے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے 21 جولائی کی ڈیڈ لائن گزرجانے کے باوجود پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو اپنی شرکت کی تصدیق نہیں کی بلکہ اس کا اصرار ہے کہ وہ پاکستان سپورٹس بورڈ سے این او سی لے گی۔

’ہاکی کو بچانے کے لیے نئے لوگ ضروری‘

لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عارف حسن کی سربراہی میں قائم پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے جسے انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی پاکستان کی نمائندہ تسلیم کرتی ہے،اٹھارہ جولائی کو بھیجی گئی ای میل میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو یاد دلایا تھا کہ اگر اس نے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں شرکت کرنی ہے تو اکیس جولائی تک اس بارے میں آگاہ کر دے۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جواب نہ ملنے کے بعد پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے بائیس جولائی کو پاکستان ہاکی فیڈریشن کو ایک اور ای میل بھیجی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر وہ کامن ویلتھ گیمز میں شرکت میں دلچسپی رکھتی ہے تو 23 جولائی تک اس کی تصدیق کر دے جو کامن ویلتھ گیمز کی آرگنائزنگ کمیٹی کی ڈیڈ لائن ہے اور اس کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم کی ان کھیلوں میں شرکت پر غور نہیں ہو سکے گا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو براہ راست جواب دینے اور مقررہ وقت پر اپنی شرکت کی تصدیق کرنے کی بجائے اس معاملے میں پاکستان سپورٹس بورڈ سے رجوع کیا ہے ۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر قاسم ضیا نے بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو غیر ملکی دورے کے لیے این او سی پاکستان سپورٹس بورڈ سے لینا پڑتا ہے کیونکہ غیر ملکی دورے کے لیے بورڈ ہی اخراجات برداشت کرتا ہے لہذٰا پاکستان ہاکی فیڈریشن نے پاکستان سپوٹس بورڈ سے کہا ہے کہ وہ بتائے کہ موجودہ صورت حال میں فیڈریشن کیا کرے۔

قاسم ضیا کا کہنا ہے کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کا الحاق پاکستان سپورٹس بورڈ سے ہے لہذٰا سپورٹس بورڈ جو کہے گا فیڈریشن وہی کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی دستے نے مختلف کھیلوں میں شرکت کرنی ہے اور چونکہ پاکستان میں سپورٹس کو کنٹرول کرنے والا ادارہ پاکستان سپورٹس بورڈ ہے لہذٰا وہی فیصلہ کرے گا۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عارف حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ ڈیڈ لائن گزر چکی ہے تاہم اگر ایک دو روز میں پاکستان ہاکی فیڈریشن انھیں اپنی شرکت کی تصدیق کر دیتی ہے تو پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کامن ویلتھ گیمز کے منتظمین سے ہاکی ٹیم کی شرکت ممکن بنانے کی کوشش کرے گی۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایک متوازی اولمپکس ایسوسی ایشن بھی قائم ہے جسے پاکستان سپورٹس بورڈ اور حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور اس کے سربراہ میجر جنرل ریٹائرڈ اکرم ساہی ہیں تاہم انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کو تسلیم نہیں کرتی۔

موجودہ صورت حال میں کھیلوں کی متعدد فیڈریشنز نے غیرملکی دوروں کے سلسلے میں پاکستان سپورٹس بورڈ سے اجازت اور مطلوبہ فنڈز نہ ملنے کی شکایت کی ہے کیونکہ وہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی تسلیم شدہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ ہیں۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے حکومتی مداخلت کا سخت نوٹس لے رکھا ہے اور اس ضمن میں عالمی باسکٹ بال فیڈریشن نے پاکستان باسکٹ بال فیڈریشن کی رکنیت معطل کر رکھی ہے۔

پاکستان کی بیڈمنٹن کی رکنیت بھی ملک میں دو فیڈریشنز کے قیام کے سبب معطل ہے۔

اسی بارے میں