جنگ میں کوئی فاتح نہیں

Image caption یاد رہے کہ نوواک جوکووچ کو سربیا میں سلوبوڈن ملاسووچ کی حکومت کے خلاف ہونے والے نیٹو کے حملوں کا دکھ جھیلنا پڑا تھا

عالمی ٹینس سپر سٹار نواک جوکووچ کا کہنا ہے کہ شام پر حملہ ناسمجھی ہوگا جس کے منفی اثرات پیدا ہوں گے۔

ٹینس کھلاڑی عام طور پر بین الاقوامی امور کے بارے میں بہت کم بات کرتے ہیں، لیکن دنیا کے بہترین ٹینس کھلاڑیوں میں سے ایک نوواک جوکووچ اور سابق نمبر ایک کھلاڑی اینا ایوانووچ نے جنگ کے بارے میں اپنے تجربات کو کھل کر بیان کیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق نوواک جوکووچ نے شام پر فوجی کارروائی کی امریکی منصوبہ بندی کی مذمت کرتے ہوئے اتوار کو کہا کہ شام کے خلاف کوئی بھی حملہ ناسمجھي ہو گا۔

یاد رہے کہ نوواک جوکووچ اور اینا ایوانووچ کو سربیا میں سلوبوڈن ملاسووچ کی حکومت کے خلاف ہونے والے نیٹو کے حملوں کا دکھ جھیلنا پڑا تھا۔

جوکووچ کا بچپن سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں گزرا جہاں انہوں نے جنگ کی ہولناکیوں کو بہت قریب سے دیکھا۔

جوکووچ نے حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا۔

جنگ سے برا کچھ نہیں

یو ایس اوپن کے تیسرے راؤنڈ کا میچ جیتنے کے بعد جوکووچ نے اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے فوجی حملوں کے بارے میں صحافیوں سے بات کی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جوکووچ نے کہا کہ، ’میں کسی بھی طرح کے ہتھیار، کسی بھی طرح کے ہوائی حملے، میزائل حملے کے پوری طرح خلاف ہوں۔‘

جوکووچ نے مزید کہا کہ ’میں ہر اس چیز کے خلاف ہوں جو تباہ کن ہے کیونکہ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے اور میں جانتا ہوں کہ اس سے کسی کا کچھ بھی بھلا نہیں ہونے والا ہے۔ میرے اور میرے ہم وطنوں کی زندگی میں یہ ایک ایسا وقت تھا، جس کے بارے میں ہم چاہیں گے کہ کوئی بھی ایسے وقت سے نہ گزرے۔ جنگ انسانیت کے لئے سب سے بری چیز ہے۔ اس میں اصل میں کوئی بھی فاتح نہیں ہے۔‘

جوکووچ کی عمر 1999 میں 12 سال تھی، جب نیٹو نے سربیا کے رہنما کی نسلی کشی کی مہم کے خلاف 78 دن تک بمباری کی تھی۔

اسکول بند، ٹینس شروع

اس وقت جوکووچ بچے تھے اور ٹھیک سے سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ انہیں اتنا یاد ہے کہ انہیں سکول نہیں جانا پڑتا تھا اور وہ ٹینس کو مزید وقت دے سکتے تھے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ میں جوکووچ بتاتے ہیں کہ ’ہم دو مہینے تک پورا پورا دن ٹینس کورٹ میں گزارتے تھے جبکہ ہوائی جہاز ہمارے سر کے اوپر سے گزرتے رہتے تھے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں اس سے کوئی دقت نہیں تھی، لیکن بمباری کے ایک یا دو ہفتے بعد ہم اپنی جان بچانے کی کوششوں میں لگ گئے. ہم جو کر سکتے تھے ہم نے کیا۔‘

جوكوچ نے مزید کہا کہ ’لیکن یہ ہمارے قابو میں نہیں تھا. اصل میں ہم بے بس تھے۔‘

اے ایف پی کے مطابق جوکووچ نے کہا کہ ’ان ڈھائی مہینوں نے ہمیں مضبوط بنایا میں اس کے بہتر پہلو کو دیکھتا ہوں اس وقت میں صرف 12 سال کا تھا تو میں نے سوچا کہ ٹھیک ہے، اب ہم اسکول نہیں جا سکتے ہیں تو ہم زیادہ ٹینس کھیل سکتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ہم نے وہ سب کچھ کیا جو ہم کر سکتے تھے اور جو ہم کرنا چاہتے تھے، ہم نے اپنے بارے میں فیصلہ زندگی کے اوپر چھوڑ دیا تھا۔‘

دنیا کی سابق نمبر ایک کھلاڑی اینا ایوانووچ نے اس سے پہلے ایک انٹرویو میں جنگ کے بارے میں اپنے تجربات کو بیان کیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق انہوں نے کہا، ’مجھے اچھی طرح یاد ہے جب فضائی حملوں کی ابتدا ہوئی میں کھیل کے میدان میں تھی کچھ لوگ میرے پاس آئے اور کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے، ہم نے سنا ہے کہ حملے آج سے شروع ہونے والے ہیں اچھا ہوگا کہ تم گھر واپس چلے جاؤ اور پریکٹس روک دو۔‘

انہوں نے کہا ’وہ پہلا دن تھا، اور اس کے بعد تقریبا ایک یا دو ہفتے تک ہم مشق نہیں کر سکے کیونکہ ہمیں نہیں پتہ تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔‘