اولمپک کمیٹی: پاکستان کی معطلی کی سفارش

Image caption انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے ایگزیکٹو بورڈ نے پولیس کے ذریعے اولمپک ہاؤس پر قبضے اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کی مذمت کی ہے

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی اولمپک رکنیت معطل کرنے کی سفارش کردی ہے اور اپنے ہیڈ کوارٹر سے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کے تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد فوری فیصلہ کرے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے ایگزیکٹو بورڈ کی سفارش کے بعد آنے والے دن پاکستان کے لئے بڑی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔

خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی پاکستان میں اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی کے یکے بعد دیگرے واقعات کے بعد اس کی اولمپک رکنیت معطل کردے گی۔

بیونس ایریس میں ہونے والے اجلاس میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے ایگزیکٹو بورڈ نے پولیس کے ذریعے اولمپک ہاؤس پر قبضے اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اکاؤنٹس منجمد کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

ایگزیکٹو بورڈ کا کہنا ہے کہ پی او اے کے اکاؤنٹس میں فنڈز آئی او سی اور اولمپک کونسل آف ایشیا کی طرف سے آتے ہیں لہٰذا کسی دوسرے کو یہ بینک اکاؤنٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) عارف حسن کی سربراہی میں قائم پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو پاکستان کی نمائندہ تسلیم کرتی ہے۔ لیکن مبینہ سرکاری مداخلت کے نتیجے میں میجر جنرل ( ریٹائرڈ ) اکرم ساہی کی پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے قیام اور قومی کھیلوں کے معاملے میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے سبب پاکستان میں سپورٹس کے معاملات بے یقینی کا شکار ہوگئے ہیں۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے ایک سے زائد بار یہ بات واضح کردی ہے کہ وہ اکرم ساہی اور ان کی ایسوسی ایشن کو کسی طور تسلیم نہیں کرتی اور اس ضمن میں ان کی طرف سے جو کچھ بھی کیا گیا ہے وہ اولمپک چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

پاکستان سپورٹس بورڈ بھی اس پورے معاملے میں فریق بن کر سامنے آیا ہے اور اس کی ایما پر گزشتہ دنوں لاہور میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی تسلیم کردہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے اولمپک ہاؤس خالی کرالیا گیا اور تمام ریکارڈ حریف گروپ نے قبضے میں لے لیا۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کا کہنا ہے کہ وہ آخر وقت تک پاکستان کی اولمپک رکنیت بچانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن حریف گروپ کی حرکتوں نے آئی او سی کو سخت فیصلے پر اگر مجبور کردیا ہے تو وہ بھی کچھ نہیں کرسکتے ۔

واضح رہے کہ انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کھیلوں کے معاملات میں حکومتی مداخلت کے سخت خلاف ہے اور وہ ماضی میں ایسے کئی ممالک کی رکنیت معطل کرچکی ہے جن کی قومی اولمپک ایسوسی ایشنز کو سرکاری مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی بارے میں