رفائل ندال یو ایس اوپن فائنل کے فاتح

Image caption ندال دنیا کے بہترین کھلاڑی ہیں: نواک جووکوچ

رفائل ندال نے ایک انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد عالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ کو یو ایس اوپن ٹینس ٹورنامنٹ کے فائنل میں شکست دے دی ہے۔

ستائیس سالہ ہسپانوی کھلاڑی اور عالمی نمبر دو نے یہ فائنل چار سیٹس میں چھ دو، تین چھ، چھ چار اور چھ ایک سے تین گھنٹے اکیس منٹ میں جیتا۔

سٹیڈیم میں موجود تئیس ہزار شائقین کے سامنے میچ کی ایک ریلی چوّن شاٹوں تک جاری رہی جو کہ اس ٹورنامنٹ کی طویل ترین ریلی تھی۔

ندال نے اب تیرہ گرینڈ سلیم ٹائٹل اپنے نام کر لیے ہیں۔ گرینڈ سلیم ٹائٹلز کے لحاظ سے تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑی جاجر فڈرر نے سترہ گرینڈ سلیم جیتے ہوئے ہیں۔

ندال فروری 2013 میں گھٹنے کی چوٹ سے صحت یابی کے بعد یہ پہلا اہم ٹورنامنٹ کھیلے ہیں۔

ندال کا کہنا تھا ’یہ کامیابی بہت زبردست ہے۔ مجھے اس کی توقع نہیں تھی۔ یہی زندگی ہے اور مجھے جو کچھ ملا ہے میں یہ میری خوش قسمتی ہے۔‘

’مجھے اس کھیل سے اور مقابلے سے محبت ہے۔ میں اپنے سارے کیریئر میں ایسے میچ کھیلنے کے خواب دیکھتا رہا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ چیزیں ساری نہیں رہتی۔ کچھ سالوں میں میرے پاس ایسا موقع نہیں ہوگا۔ میں نے اپنی پوری کوشش کی اور میں اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتا۔‘

اگرچہ جاکووچ اس وقت کھلاڑیوں کی درجہ بندی میں عالمی نمبر ایک ہیں مگر ندال کی حالیہ بہترین فارم کی بنا پر انہیں یہ میچ جیتنے کے لیے پسندیدہ تصور کیا جا رہا تھا۔

ندال نے اس سال اس فائنل سے پہلے ہارڈ کورٹ پر اکیس میچ کھیلے تھے اور وہ سب میں کامیاب رہے ہیں۔ مجموعی طور پر انہیں نے اس تریسٹھ میچوں میں سے ساٹھ میں کامیابی حاصل کی۔

جاکووچ اور ندال کے درمیان اس سے پہلے گذشتہ چھتیس میچوں میں سے اکیس ندال اور پندرہ جوکووچ کے نام ہوئے ہیں۔

دونوں کے درمیان یہ چھٹا گرینڈ سلیم فائنل تھا۔ رافیل ندال نے 2010 میں آخری مرتبہ یو ایس اوپن ٹائٹل جوکووچ کے خلاف ہی جیتا تھا۔ جوکووچ نے اگلے سال فائنل میں ندال کو ہرایا تھا۔

نواک جووکوچ اب پانچ دفعہ یو ایس اوپن فائنل کھیل چکے ہیں جن میں سے وہ ایک میں فاتح رہے۔

جوکووچ نے میچ کے بعد اس بات کا اعتراف کیا کہ ’وہ ایک بہترین کھلاڑی ہیں۔ وہ یہ میچ اور ٹرافی جیتنے کے حقدار تھے۔‘

’ظاہر ہے کہ ایسے میچ ہارنا مایوس کن ہے۔ مگر میں پھر کہوں گا کہ اس میچ کو کھیلنا ہی ایہ اعزاز تھا۔‘

یاد رہے کہ اس میچ سے پہلے عالمی نمبر ایک نوواک جوکووچ نے اپنے مدِ مقابل سپین کے رفائل ندال کو دنیا کا بہترین ٹینس کھلاڑی قرار دیا ہے۔

جاکووچ نے یو ایس اوپن کے پہلے سیمی فائنل میں سوئس حریف سٹانیسلاس واورنکا کو شکست دی تھی جبکہ دوسرے سیمی فائنل میں رفائل ندال نے اپنے فرنچ حریف رچرڈ گیسکے کو باآسانی ہرا دیا تھا۔

اسی بارے میں