ٹیم کی شرمناک کارکردگی، تمغے واپس کردینگے

Image caption پاکستان کی ہاکی ٹیم پہلی بار آئندہ سال ہاکی کے عالمی کپ میں شرکت نہیں کر سکے گی

پاکستان کے سابق ہاکی اولمپئنز نے ورلڈ کپ سے باہر ہوجانے اور ٹیم کی شرمناک کارکردگی پر وزیراعظم نواز شریف سے مداخلت کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن کی حیثیت سے قومی کھیل کا نام ونشان مٹنے سے بچائیں۔

سابق ہاکی اولمپئنز کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد کا رخ کریں گے اور اگر حکومت نے کوئی توجہ نہ دی تو وہ اپنے جیتے گئے تمام تمغے اور پرائیڈ آف پرفارمنس واپس کر دینگے۔

ہاکی، عروج سے زوال تک کا سفر

پاکستان 2014 کے عالمی کپ سے باہر ہو گیا

’ہاکی کو بچانے کے لیے نئے لوگ ضروری‘

سابق اولمپئنز اصلاح الدین، شہناز شیخ، قمرضیا، ایاز محمود، قمرابراہیم، رشید الحسن، وسیم فیروز، سمیر حسین اور متعدد دوسرے کھلاڑیوں نے منگل کو کراچی پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ہاکی پاکستان کی شناخت تھی لیکن ان پانچ برسوں میں یہ شناخت ختم کردی گئی ہے ۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کے مطابق شہناز شیخ کا کہنا ہے کہ سابق اولمپئنز کو فیڈریشن کے عہدے حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس کھیل کا کھویا ہوا وقار واپس لایا جائے اور وہ فوری طور پر وزیراعظم سے ملاقات کر کے انہیں ہاکی کی تباہی کے بارے میں بتانا چاہتے ہیں اس ملاقات کا وعدہ وفاقی وزیر بھی کر چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہاکی سے محبت کرنے والے شائقین موجودہ صورتحال میں دلبرداشتہ ہوگئے ہیں

اصلاح الدین نے کہا کہ نتائج خود بولتے ہیں۔ پانچ سال کی کارکردگی سب کے سامنے ہے اور اب تبدیلی کے سوا کوئی اور راستہ نہیں رہا۔ اس فیڈریشن کو بہت وقت مل گیا اب کوئی گنجائش نہیں رہی۔یہ وزیراعظم کا اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی یہ ذمہ داری سونپ دیں۔بہتر یہی ہوگا کہ ایڈہاک لگاکر غیرجانبدارانہ انداز میں الیکشن کرا دیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ جس کھیل میں بھی میرٹ کو نظرانداز کیاگیا اس کا وہی حشر ہوا جو آج ہاکی کا ہوا ہے۔

اصلاح الدین نے کہا کہ فیڈریشن کے اکیڈمیز کے بارے میں تمام تر دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں کیونکہ اگر ملک بھر میں اکیڈمیز کا جال بچھا ہوا ہوتا تو آج پاکستانی ہاکی بیس کھلاڑیوں کے گرد نہیں گھوم رہی ہوتی۔

اسی بارے میں