’بھارت پاکستان میں کھیلنے کے لیے تیار نہیں‘

Image caption شہریارخان نے کہا کہ کرکٹ ڈپلومیسی کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن پہلے راستہ کھل جائے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور سفارتکار شہریار خان نے کہا ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان آ کر کھیلے اور نیوٹرل مقام پر بھی دونوں کے کھیلنے کا کوئی امکان نہیں۔

شہریار خان نے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کے دورے میں کرکٹ پر کوئی بات نہیں ہوئی۔انھوں نے کہا کہ بھارت ہم سے سکیورٹی کے سبب کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہے، لگتا ہے کہ ابھی کچھ وقت لگے گا اور تعلقات کے بہتر ہونے پر ہی کچھ کہا جاسکےگا۔

’ پاکستان بھارت کے پیچھے بھاگنا بند کرے‘

شہریارخان نے کہا کہ کرکٹ ڈپلومیسی کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن پہلے راستہ کھل جائے اور پاکستانی ٹیم بھارت جاکر کھیلے جیسا کہ پچھلے سال اس نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے تھے۔

یاد رہے کہ شہریارخان دو ماہ قبل وزیرِ اعظم نواز شریف کے ایلچی کی حیثیت سے بھارت گئے تھے اور وہاں انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے معاملات پر بات کرنے کے لیے بھارتی وزیرِ اعظم من موہن سنگھ اور دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتیں کی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نگراں چیئرمین دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ روابط کے لیے کوششیں کررہے ہیں تاکہ کرکٹ کے دروازے کھل جائیں لیکن لگتا نہیں کہ کوئی پیش رفت ہو گی۔

’جب تک پاکستان میں حالات بہتر نہیں ہونگے بھارت ہی نہیں کوئی بھی ٹیم یہاں آ کر کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہوگی۔‘

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سبحان احمد بھارت کے شہر چنئی میں ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

وہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے حکام سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ممکنہ بھارتی دورے پر بھی بات کریں گے۔

بھارتی کرکٹ بورڈ جنوبی افریقہ سے ناراض ہونے کے بعد پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں کے ساتھ سہ فریقی ون ڈے سیریز کی میزبانی کے بارے میں سوچ رہا ہے۔

ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس کے دو روز بعد جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ہارون لورگاٹ اور بی سی سی آئی کے سیکرٹری سنجے پٹیل دبئی میں ملاقات کرنے والے ہیں۔

اگر بھارتی کرکٹ بورڈ کی جنوبی افریقہ سے ناراضگی ختم نہ ہوئی تو ممکن ہے کہ پاکستان سری لنکا اور بھارت کی سہ فریقی سیریز کو حتمی شکل دے دی جائے۔

اس صورت میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان متحدہ عرب امارات میں ہونے والی ون ڈے سیریز متاثر ہونے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں