بھارتی ٹیم کا دورۂ جنوبی افریقہ کھٹائی میں

Image caption بھارتی ٹیم کو 18 نومبر سنہ 2013 سے 19 جنوری سنہ 2014 تک جنوبی افریقہ کا دورہ کرنا تھا

بھارتی اور جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کے اختلافات کی وجہ سے بھارتی کرکٹ ٹیم کا دورۂ جنوبی افریقہ بے یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے کرکٹ بورڈ کے مطابق بھارتی ٹیم کو 18 نومبر سنہ 2013 سے 19 جنوری سنہ 2014 تک جنوبی افریقہ کا دورہ کرنا تھا تاہم بھارتی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ اعلان بغیر اس کی رضامندی کے یک طرفہ طور پر کیا گیا ہے۔

دبئی میں پیر کو آئی سی سی کے اجلاس کے دوران جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو ہارون لوگارٹ اور بھارتی بورڈ کے سیکرٹری سنجے پٹیل کے درمیان بات چیت بھی ہوئی تاہم دورے کی تاریخ اور میچوں کی تعداد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کی جانب سے جولائی میں جو اعلان کیا گیا تھا اس کے مطابق بھارت کو جنوبی افریقہ کے دورے میں تین ٹیسٹ، سات ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھلنے تھے لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ نومبر میں ویسٹ انڈیز کے خلاف سچن تندولکر کے 200 ویں میچ کے کی تیاریاں کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ایک میچ اس طرح آ رہا ہے کہ بھات کو جنوبی افریقہ کا دورہ مختصر کرنا پڑے گا۔

بھارتی بورڈ کے متنازع صدر ایس سری نواسن کی اکتوبر میں لندن میں جنوبی افریقہ بورڈ کے صدر سے ملاقات ہونے والی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ شاید اس ملاقات میں اس دورے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ ہو سکے۔

بھارت کے معروف کمنٹیٹر پردیپ میگزین کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی بورڈ کے صدر سری نواسن کی انا کا معاملہ ہے۔ان کے مطابق سری نواسن کے ہارون لوگارٹ سے انہی دنوں اختلاف پیدا ہو گئے تھے جب وہ آئی ‎سی سی چیف ایگزیکٹو تھے۔

ہارون لوگارٹ نے بھارتی کرکٹ بورڈ کی مخالفت کے باوجود ڈی آر ایس کا نظام تجرباتی طور پر شورع کیا تھا اور ساتھ ہی یہ تجویز بھی رکھی تھی کہ کرکٹ بورڈز کو سیاست دانوں سے الگ رکھا جائے ۔

سری نواسن اور ہارون لوگارٹ کے درمیان سنہ 2011 کے کرکٹ کے عالمی کپ کے دوران اس وقت بھی تلخی پیدا ہوئی تھی جب بھارتی بورڈ ایک دستاویز تک رسائی چاہتا تھا۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی بورڈ جنوبی افریقہ بورڈ کی صدارت کے لیے لوگارٹ کے انتخاب کے خلاف تھا۔

بھارت کے جنوبی افریقہ کے دورے پر شکوک کے بادل چھائے ہوئے ہیں اگرچہ جنوبی افریقہ میں میچوں کی تاریخ کا اعلان کر دیا گیا ہے اور ٹکٹوں کی فروخت بھی اگلے مہینے سے شروع ہونے والی ہے۔

اگر بھارت کے جنوبی افریقہ کے دورے کے دنوں میں کمی کی گئی یا میچ کم کیے گئے تو جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

اسی بارے میں