’کرکٹ میں مذہبی رجحان سعید انور نےشروع کیا، انضمام نےاسے تقویت دی‘

Image caption پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریارخان نے ان خیالات کا اظہار اپنی نئی کتاب ’ کرکٹ کالڈرن‘ میں کیا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین شہریارخان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں مذہبی رحجان سعید انور نے شروع کیا اور اسے انضمام الحق کے دور میں تقویت ملی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی نئی کتاب ’ کرکٹ کالڈرن‘ میں کیا ہے۔

شہریارخان لکھتے ہیں ’ پاکستانی ٹیم میں بڑھتے ہوئے مذہبی رجحان کو میں نے ہمیشہ تشویش کی نظر سے دیکھا۔ یہ رجحان سعید انور کے ذریعے پیدا ہوا جسے انضمام الحق کے دور میں تقویت پہنچی‘۔

ان کے مطابق معاملہ یہاں تک پہنچ گیا کہ ٹیم کے مختلف دوروں میں ٹیم کے کھلاڑی تبلیغی جماعت کے ارکان سے رابطے میں رہتے تھے۔

شہر یارخان کہتے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سعید انور کو تبلیغی جماعت نے یہ اجازت دے رکھا ہو کہ پاکستانی ٹیم جس شہر میں بھی جائے وہ تبلیغی اجتماعات کا اہتمام کریں جیسا کہ ڈربن، مانچسٹر، برمنگھم، کارڈف اور برسٹل میں ہوا۔

انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ’ٹیم کے کوچ باب وولمر نے ایک موقع پر مجھ سے شکایت کی کہ کھلاڑیوں کے مسلسل نمازوں میں مصروف رہنے کے سبب انہیں کھلاڑیوں کے ساتھ میچز کی حکمت عملی پر بات کرنے کا موقع نہیں مل پارہا ہے۔‘

تاہم بعد میں وولمر نے یہ بھی کہا کہ ’نماز اور عبادت میں مصروف ہونے کے سبب کھلاڑی نائٹ کلب اور رات گئے دوسری سرگرمیوں سے بچے ہوئے ہیں۔‘

’اوول ٹیسٹ، نتیجہ بدلناچاہیے‘

’آئی سی سی ساکھ کھوبیٹھے گی‘

نتیجہ تبدیل، ایم سی سی ناراض

اوول تنازع: سٹے بازی پر سوالات

پاکستان کا آئی سی سی سے احتجاج

شہریارخان کا کہنا ہے ’میں نے انضمام الحق کو متنبہ کیا تھا کہ تبلیغی جماعت کو شدت پسندوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کے نتیجے میں اس سے ان کا براہ راست رابطے میں رہنا پریشانی کا سبب بن سکتا ہے‘۔

Image caption انضمام الحق کے خیال میں پاکستانی کرکٹرز کے دین سے تعلق کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ٹیم پر انضمام کا مکمل کنٹرول تھا اور سن دو ہزار چھ میں انگلینڈ کے دورے میں کوچ وولمر اور منیجر ظہیرعباس سے ان کے اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔

شہریار خان کے مطابق اس دورے میں اوول ٹیسٹ میں جب آسٹریلوی امپائر ڈیرل ہیئر نے پاکستانی ٹیم پر بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کیا تو ٹیم بطور احتجاج کھیلنے کے لیے تیار نہ تھی۔

ان کے مطابق انضمام الحق کو سمجھانے کی کافی کوششیں کی گئیں کہ وہ ایک حد تک احتجاج کرکے کھیل جاری رکھنے کے لیے تیار ہوجائیں لیکن ان کی ہٹ دھرمی ناقابل قبول تھی۔

انہیں قائل کرنے کے لیے ڈاکٹر نسیم اشرف کو صدر پرویز مشرف سے رابطہ کرنا پڑا تھا ۔

شہریار خان کہتے ہیں ’اوول ٹیسٹ کے بعد انضمام الحق ون ڈے سیریز کھیلنے کے لیے بھی تیار نہ تھے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ میں پاکستان سے دوسری ٹیم بلوا کر اسے کھلوا دوں۔ ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے دوبارہ ایوان صدر سے کہا گیا اور یوں وہ ون ڈے سیریز کھیلنے کے لیے راضی ہوئے‘۔

شہریار خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چیئرمین کے عہدے سے ان کے استعفے کی وجہ یہی پلیئر پاور تھی جسے کنٹرول کرنے میں وہ ناکام رہے۔

شہریارخان لکھتے ہیں ’میں نے ہر قدم پر انضمام الحق کی بہت حوصلہ افزائی کی، ان کی حمایت کی، لیکن ان کی اس ہٹ دھرمی نے مجھے سخت مایوس کیا جو کسی طور بھی میرے لیے قابل قبول نہ تھی۔ درحقیقت یہ پلیئر پاور تھی جو میرے استعفے کی سبب بنی‘۔

دوسری جانب انضمام الحق نے شہریارخان کے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔

پاکستان کے سابق کرکٹ کپتان نے بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس بات کی سختی سے تردید کی کہ باب وولمر سے ان کے اختلافات تھے اور وہ ٹیم کا مکمل کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے تھے۔

’عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ وہی کپتان کامیاب اور مؤثر ہوتا ہے جو ٹیم کو کنٹرول میں رکھتے ہوئے ہرکھلاڑی کی صلاحیت کے مطابق اس سے کام لے۔ اگر میں نے اپنی کپتانی میں ایسا کیا تو یہ اچھی بات تھی۔ میرے وولمر کے ساتھ تعلقات آخر وقت تک خوشگوار رہے‘۔

انضمام الحق یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ کرکٹرز کی دینی سرگرمیوں نے کرکٹ کو متاثر کیا۔

’ کھلاڑی دوروں میں قصر نماز پڑھتے تھے۔ آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دو رکعت نماز میں کتنا وقت لگتا ہوگا؟ کبھی بھی نماز کی وجہ سے پریکٹس متاثر نہیں ہوئی‘۔

انضمام الحق کے خیال میں پاکستانی کرکٹرز کے دین سے تعلق کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

’ہمارے اپنے لوگوں نے اس معاملے کو متنازع بنانے میں خوشی محسوس کی ہے۔ اس کے برعکس جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کی مثالیں سب کے سامنے ہیں جہاں ہاشم آملا اور فواد احمد کے مذہبی جذبات کا ان کے غیرمسلم کرکٹ بورڈ نے احترام کیا ہے‘۔

اسی بارے میں