اختر رسول دونوں عہدوں سے مستعفی

Image caption اختر رسول پہلے بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر رہ چکے ہیں

پاکستان کے سابق اولمپیئن اختر رسول نے ہاکی ٹیم کے منیجر اور ہیڈ کوچ کا عہدہ چھوڑ دیا ہے اور وہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر کا انتخاب لڑیں گے۔

اختر رسول گذشتہ سال مارچ میں پاکستانی ہاکی ٹیم کے منیجر اور ہیڈ کوچ مقرر کیے گئے تھے۔

ان کے دور میں پاکستانی ٹیم نے ایشین چیمپئنزٹرافی جیتی، چیمپئننز ٹرافی میں کانسی کا تمغہ جیتا، لندن اولمپکس میں وہ ساتویں نمبر پر آئی اور حال ہی میں اسے اپنی تاریخ میں پہلی بار ہاکی کے عالمی کپ سے باہر ہونے کی ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اختر رسول پاکستان ہاکی کے ہیڈ کوچ اور مینیجر

اختررسول نے بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انھوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ سے ملاقات میں اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اختر رسول نے کہا کہ جمہوری ملک میں ہر ایک کو انتخاب لڑنے کا حق حاصل ہے اور وہ اپنے دوستوں کے مشورے سے اس حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اختر رسول پہلے بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر رہ چکے ہیں۔

ان کے دور میں پاکستانی ٹیم 22 سال میں پہلی بار چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہوئی اور جونیئر ٹیم عالمی جونیئر کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی تھی۔

اختر رسول نے کہا کہ وہ ڈیڑھ سال پاکستانی ٹیم کے منیجر اور ہیڈ کوچ رہے اور وہ اس عرصے میں اپنی اور ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا ضمیر مطمئن ہے کہ انھوں نے دل وجان سے محنت کی لیکن بدقسمتی سے ٹیم عالمی کپ کے لیے کوالیفائی نہ کر سکی جس کا انھیں دکھ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ورلڈ لیگ میں ٹیم کے چار اہم کھلاڑی ان فٹ ہوگئے تھے اسے ٹیم کی بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ کوریا سے اچھا کھیلنے کے باوجود وہ نہ جیت سکی۔

انھوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی ٹیم ایسی نہیں ہے جو سو فیصد کامیابی حاصل کرے۔

اسی بارے میں