’دینا واڈیا سرکاری مہمان بننے کو تیار نہ تھیں‘

Image caption شہریارخان کی کتاب ’ کرکٹ کالڈرن‘ کے مطابق دینا نے حکومت کی بجائے ان کا مہمان بننا قبول کیا تھا

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ’کرکٹ ڈپلومیسی‘ کا ہمیشہ اہم کردار رہا ہے۔

سنہ دو ہزار چار میں جب بھارتی کرکٹ ٹیم چودہ سال کے طویل وقفے کے بعد پاکستان آئی تھی تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس وقت کے چیئرمین شہریار خان نے بھی اپنے وسیع سفارتی تجربے اور ذاتی تعلقات استعمال کرتے ہوئے کرکٹ سفارتکاری خوبصورتی سے استعمال کی تھی۔

اس سیریز کے دوران بھارت سے آنے والی شخصیات میں قائداعظم محمد علی جناح کی صاحبزادی دینا واڈیا قابل ذکر تھیں۔

شہریارخان نے اپنی کتاب ’ کرکٹ کالڈرن‘ میں انکشاف کیا ہے کہ دینا واڈیا سرکاری مہمان کی حیثیت میں پاکستان آنے کے لیے تیار نہ تھیں۔

شہریار خان لکھتے ہیں ’میں نے اپنے دوست نسلی واڈیا کو فون کر کے انہیں پاک بھارت ون ڈے دیکھنے کی دعوت دی۔ نسلی واڈیا قائداعظم کے نواسے ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ دینا واڈیا جو نیویارک میں رہتی ہیں، ان دنوں ممبئی آئی ہوئی ہیں۔ نسلی واڈیا نے مجھے مشورہ دیا کہ میں ان کی والدہ سے بھی بات کر کے انہیں دورے کے لیے رضامند کروں۔‘

شہریار خان نے دینا واڈیا سے اپنی گفتگو کے بارے میں لکھا ہے ’میں نے مسز دینا واڈیا کو فون کیا تو ابتدا میں وہ راضی نہ ہوئیں لیکن بعد میں وہ ایک ون ڈے دیکھنے کے لیے لاہور آنے کے لیے تیار ہوگئیں۔ تاہم انہوں نے یہ شرط رکھی کہ ان کا دورہ خالصتاً نجی ہوگا اور ان کی فیملی میرے مہمان کی حیثیت سے پاکستان آئے گی پاکستانی حکومت کی نہیں۔‘

شہریار خان کا کہنا ہے کہ دینا واڈیا کی اس خواہش کے بارے میں انہوں نے اس وقت کے صدر پرویز مشرف سے بات کی جو بہرحال اس دورے پر بہت خوش تھے۔

یاد رہے کہ قائداعظم کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ تھا۔

شہریار خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ دینا واڈیا اور نسلی واڈیا کے علاوہ لاہور کا میچ دیکھنے کے لیے جے پور کی مہارانی بھی موجود تھیں۔ وہ بھی ان کی دعوت پر آئی تھیں۔

شہریار خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کیمبرج کے اپنے پرانے دوست نٹور سنگھ کو بھی میچز دیکھنے مدعو کیا تھا لیکن انتخابی مہم میں مصروف ہونے کے سبب انہوں نے دعوت قبول نہیں کی البتہ کراچی کا ون ڈے دیکھنے کے لیے راہول گاندھی، پریانکا اور ان کے شوہر موجود تھے۔

اسی بارے میں