افراتفری، بے اعتمادی اور حواس باختگی

پاکستانی کرکٹ ٹیم لاہور میں ٹریننگ سیشن سے قبل

دنیا کی عالمی نمبر ایک ٹیم کے خلاف پاکستان کرکٹ بورڈ کی تیاری کتنی بھرپور ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف دو ٹیسٹ میچوں کی مختصر سیریز کے لیے بھی وہ مکمل سکواڈ کا اعلان نہیں کرسکا ہے اور بارہ کھلاڑی منتخب کرتے ہوئے اس نے باقی تین ناموں کا اعلان شارجہ کےتین روزہ میچ تک مؤخر کردیا ہے۔

سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ بظاہر چیف سلیکٹر کے بغیر فرائض انجام دینے والی سلیکشن کمیٹی ان بارہ ناموں میں دو اوپنرز تک کو شامل نہیں کرسکی ہے اور صرف ایک اوپنر خرم منظور کو شامل کر کے بقیہ کا انتخاب شارجہ کے سہ روزہ میچ کے بعد کیا جائے گا۔

شارجہ میں جنوبی افریقہ کے خلاف سہ روزہ میچ کھیلنے والی پاکستان اے ٹیم میں دو ہی اوپنرز شان مسعود اور احمد شہزاد شامل ہیں۔

اگر ان دو میں سے کسی ایک کو خرم منظور کے ساتھ اننگز کا آغاز کرنے کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تب بھی تیسرے اوپنر کو ہمیشہ بیک اپ کے طور پر سکواڈ میں رکھا جاتا ہے۔ لہذا یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ سلیکٹرز نے بارہ رکنی ٹیم میں صرف ایک اوپنر کو کیوں رکھا؟

Image caption عمر امین پاکستان اے کے کپتان ہیں

جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں خرم منظور کے ساتھ احمد شہزاد یقینی طور پر اننگز کا آغاز کریں گے جو شان مسعود کے برخلاف ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

سلیکٹرز مڈل آرڈر بیٹنگ میں ایک بیٹسمین کو شامل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ شارجہ کے سہ روزہ میچ میں فیصل اقبال اور اسد شفیق کی کارکردگی کے انتظار میں ہیں۔ دونوں کے سروں پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔

ایک انتہائی باصلاحیت کرکٹر کے طور پر پہچانے جانے والے اسد شفیق زمبابوے کے خلاف ناکام ہونے کے بعد اگرچہ سلیکٹرز اور کپتان کی حمایت سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لیکن وہ انہیں ایک دم ٹیم سے باہر کرنے کے بجائے ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔ فیصل اقبال کو ماضی میں ٹیم میں مستقل جگہ بنانے کے کئی مواقع ملے لیکن وہ ان سے فائدہ نہ اٹھاسکے اور اب وہ ٹیم کےایسے کھلاڑی ہیں جو تقریباً ہر دورے پر جاتے ہیں اور کھیلے بغیر آجاتے ہیں۔

عمر امین کو پاکستان اے کا کپتان بناکر اور پھر بارہ رکنی ٹیسٹ ٹیم میں بھی شامل کرنے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ انہیں مستقبل کے کپتان کے طور پر تیار کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے اور جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ان کے کھیلنے کا مطلب یہ ہوگا کہ فائنل الیون میں اسد شفیق کی بھی جگہ نہیں بنے گی۔

Image caption محمد عرفان کے بارے میں پہلے سلیکٹرز کا یہ کہنا تھا کہ وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے لیے زیادہ موزوں ہیں

جہاں تک پاکستانی بولنگ کا تعلق ہے تو یہ بات بھی حیران کن ہے کہ ایک ہی جیسے دو لیفٹ آرم سپنرز عبدالرحمن اور ذوالفقار بابر ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔ عام طور پر سپن بولنگ میں اگر ورائٹی لانی ہوتی ہے تو ایک رائٹ آرم لیگ سپنر، ایک آف سپنر اور ایک لیفٹ آرم سپنر ٹیم میں شامل کیے جاتے ہیں لیکن دانش کنیریا کے بعد پاکستان کے پاس کوئی بھی مؤثر لیگ اسپنر موجود نہیں۔ عبدالرحمن پر کپتان مصباح الحق کو بھرپوراعتماد ہے جبکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میں عمدہ بولنگ کے بعد ذوالفقار بابر ایسے بولر کے طور ابھرے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

عام خیال یہی ہے کہ کم ازکم پہلے ٹیسٹ میں عبدالرحمن ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ یہ بات بھی کپتان کے ذہن میں ہے کہ وہ تین سپنرز کے ساتھ جنوبی افریقہ کو قابو کریں لیکن اس کا انحصار وکٹ پر ہوگا۔

پاکستان کے پاس اس وقت تمام ہی فاسٹ بولرز بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے ہیں۔ یہ ٹیم کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ اس بارے میں ماہرین ہی بہتر بتاسکتے ہیں لیکن ٹیم میں محمد عرفان کو شامل کر کے سلیکٹرز نے اپنے اس دعوے کی نفی کردی ہے کہ وہ پورے دن فیلڈ میں نوے اوورز گزارنے کے ساتھ ساتھ خود اٹھارہ بیس اوورز نہیں کراسکتے کیونکہ اس صورت میں ان کی فٹنس جواب دے سکتی ہے لہذا وہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔

اسی بارے میں