اولمپک مشعل کی رونمائی، سفر کی افتتاحی تقریب

Image caption سفر کے دوران المپکس مشعل بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر بھی بھیجی جائے گی

روسی صدر ولادی میر پوتن نے ماسکو میں 2014 کے سرمائی اولمپکس کی مشعل کی ریلی کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے۔

روس کے شہر سوچی میں سات فروری 2014 کو اولمپک مقابلوں کے شروع ہونے سے پہلے اولمپک مشعل 123 دن کے سفر کے دوران 65 ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔

اس سفر کے دوران اولمپک مشعل بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر بھی بھیجی جائے گی۔

اس تقریب کے موقع پر روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ ان کھیلوں سے ظاہر ہو جائے گا کہ روس ’مساوات اور تنوع‘ کی قدر کرتا ہے۔

یونان کے اس تاریخی مقام پر اتوار کو اولمپکس کی مشعل کو روشن کی گئی جہاں اولمپک مقابلوں کی ابتدا ہوئی تھی۔ اس کے بعد مشعل کو جہاز کے ذریعے روس پہنچایا گیا۔

ولادی میر پوتن نے ماسکو میں تقریب کے دوران مشعل کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری مشترکہ خواب پورا ہو رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کھیلوں سے ’ہماری مساوات اور تنوع کے لیے قدر کا اندازہ ہو جائے گا جو اولمپک گیمز کی تحریک کے ساتھ وابستہ ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہمارے لیے بڑی خوشی کا دن ہے۔ امن و دوستی کی علامت اولمپک مشعل روس پہنچ گئی ہے اور یہ جلد ہی ہمارے ملک کے سفر پر روانہ ہو جائے گی۔‘

روس کی وفاقی خلائی ایجنسی نومبر میں مشعل کو بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر بھیجی گی، جہاں پر موجود دو روسی خلا باز مشعل کے ساتھ خلائی چہل قدمی کریں گے۔

دوسری طرف روس کی طرف سے ہم جنس پرستی سے متعلق معلومات دینے پر پابندی کے نئے قانون کی وجہ سے اولمپکس کی تیاری تنازعات کا شکار ہو گئی ہے۔ روسی حکام پر یہ الزامات بھی لگائے گئے ہیں کہ انھوں نے اولمپکس کی تیاری کے لیے سوچی میں تعمیراتی کام میں حصہ لینے والے غیرملکی کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

سوچی کو2007 میں سرمائی اولمپکس کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں