سنوکر چیمپئن آصف علی کو انعامات کی توقع نہیں

Image caption محمد آصف نےگزشتہ دسمبر میں بلغاریہ میں عالمی امیچر سنوکرچیمپئن شپ جیتی تھی

عالمی امیچر سنوکر چیمپئن محمد آصف کا کہنا ہے کہ صرف دس ماہ میں تین بڑے اعزازات جیتنا معمولی بات نہیں اور ان کامیابیوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ پاکستان میں ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو عالمی اور ایشیائی ٹائٹلز جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

محمد آصف نے گزشتہ دنوں آئرلینڈ میں عالمی ٹیم چیمپئن شپ جیتی ہے جس میں ان کے ساتھ محمد سجاد تھے۔

پاکستان سنوکر کا عالمی چیمپئن بن گیا

محمد آصف نے گزشتہ دسمبر میں بلغاریہ میں کھیلی گئی عالمی امیچر سنوکر چیمپئن شپ جیتی تھی اور پھر اس سال مئی میں6 ریڈ ایشین سنوکر ٹائٹل بھی جیتا۔

محمد آصف اور محمد سجاد نے آئرلینڈ سے وطن واپسی پر بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ آئرلینڈ میں انہیں بیک وقت دو ایونٹس کھیلنے پڑ رہے تھے اور یہ دونوں مختلف فارمیٹ کے تھے۔ ٹیم ایونٹ پندرہ ریڈ بال کا تھا لہذا انہیں دونوں پر مکمل توجہ رکھنی پڑ رہی تھی چونکہ انہیں 6 ریڈ بال کا پہلے سے تجربہ تھا لہذا انہوں نے کوشش کی کہ بہتر نتائج دے سکیں لیکن پری کوارٹرفائنل میں شاید ان کا دن نہیں تھا اور وہ ہارگئے۔

محمد آصف نے کہا کہ اس کامیابی سے انہیں ورلڈ چیمپئن شپ کے لئے حوصلہ ملا ہے اور میچ پریکٹس ملنے سے وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ عالمی مقابلے میں حصہ لے سکیں گے۔

عالمی چیمپئن شپ دسمبر میں لیٹویا میں کھیلی جائے گی جس میں محمد آصف کو عالمی اعزاز کا دفاع کرنا ہے۔

محمد آصف نے کہا کہ عالمی ٹیم ایونٹ جیتنے کے بعد انہیں انعامات کے بارے میں ارباب اقتدار سے کوئی خوش فہمی نہیں کیونکہ عالمی چیمپئن بننے کے بعد کئے گئے وعدے ابھی تک پورے نہیں کئے گئے لیکن وہ اتناضرور کہیں گے کہ جھوٹے وعدے کرکے کھلاڑیوں کی دل آزاری نہیں کرنی چاہئے۔

محمد سجاد کا کہنا ہے کہ یہ جیت ان کے لئے اس لئے اہمیت رکھتی ہے کیونکہ دو تین سال سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کوئی ٹورنامنٹ نہیں جیت پائے تھے۔

سجاد نے کہا کہ اس جیت کے بعد ممکن ہے کہ انہیں عالمی چیمپئن شپ میں وائلڈ کارڈ انٹری مل جائے۔اگر انہیں شرکت کا موقع ملا تو وہ زیادہ سے زیادہ پریکٹس کرکے اپنی فارم کو مزید بہتر کرنے کی کوشش کرینگے۔

محمد سجاد اس سے قبل دو ہزار دس میں تھائی لینڈ میں کھیلا گیا کوراٹ کپ بھی وائلڈ کارڈ کے ذریعے کھیلے تھے اور جیتے تھے۔ انہوں نے دو ہزار دس کی ایشین چیمپئن شپ کا فائنل بھی کھیلا تھا جس میں انہیں شکست ہوئی تھی۔

اسی بارے میں