2014 کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کا بیٹن بھارت میں

سال دو ہزار دس کے بعد ایک مرتبہ پھر دولتِ مشترکہ کھیلوں کے سلسلے میں’ کوئینز بیٹن ریلے‘ ایک بار پھر بھارت پہنچی ہے۔

2014 کے دولت مشترکہ کھیل سکاٹ لینڈ کے شہرگلاسگو میں منعقد ہوں گے اور سابق میزبان ملک ہونے کے ناطے کوئینز بیٹن سب سے پہلے بھارت لایا گیا ہے۔

بیٹن کا سفر بکنگھم پیلس سے شروع ہوا تھا جہاں سے اسے بھارت میں آگرہ کے تاج محل لایا گیا۔

تاج محل میں کچھ گھنٹے گزارنے کے بعد یہ بیٹن دہلی کے انڈیا گیٹ نیشنل سٹیڈیم پہنچا اور تیرہ اکتوبر کو دوپہر میں بیٹن کو قطب مینار بھی لے جایا جائے گا۔

بیٹن ریلے کے موقع پر بی بی سی ہندی سے بات چیت میں ایتھلیٹ کرشنا پونيا نے کہا، ’اس بیٹن کے بہانے ہماری پرانی یادیں تازہ ہو گئیں جب دہلی میں دولت مشترکہ کھیل ہوئے تھے۔ اگلے کھیل کے لیے بھی ہماری تیاری بہت اچھی ہے۔ ہم امید کریں گے، امید نہیں بلکہ اپنا سو فیصد دیں گے کہ ہماری کارکردگی دہلی گیمز کی طرح اچھی رہے‘۔

وہیں ورلڈ چیمپئن شپ میں تمغہ جیتنے والے نوجوان پہلوان امت کمار نے کہا کہ ’میں بہت پرجوش ہوں۔ بہت خوشی ہو رہی ہے یہ سوچ کر کہ ہم بھی دولت مشترکہ کھیلوں میں حصہ لیں گے۔ کھیلوں کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ پریکٹس میں سشیل کمار جیسے سینیئر بھی ہماری مدد کر رہے ہیں‘۔

بھارت کے بعد چودہ اکتوبر کو بیٹن بنگلہ دیش جائےگا اور وہاں کے بعد اس کی منزل پاکستان اور سری لنکا ہوگی۔

یہ بیٹن مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے ایک لاکھ نوے ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرے گا جس میں تقریبا دو سو اٹھاسی دن لگیں گے۔

کوئینز بیٹن ریلے پہلی بار سنہ انیس سو اٹھاون میں منعقد کی گئی تھی جب کھیل كارڈف میں ہوئے تھےلیکن تب بیٹن ریلے صرف انگلینڈ اور میزبان ملک میں ہی جاتی تھی۔

بتایا جا رہا ہے کہ ڈیزائنرز کو یہ ہدایات دی گئی تھیں کہ بیٹن ایسا ہو کہ آسانی سے ایک شخص سے دوسرے شخص کو سونپا جا سکے، اس کا وزن دو کلو گرام سے زیادہ نہ ہو اور ہر طرح کے موسم میں اس کا استعمال کیا جا سکے۔

معلومات کے مطابق اس کا ہینڈل لکڑی سے بنا ہوا ہے اور اس کے اوپر گرینائٹ کا نگینہ لگا ہوا ہے جسے نکالا جا سکتا ہے۔ جس ملک میں یہ بیٹن جائے گا اس ملک کو یہ نگینہ بطور تحفہ دیا جائے گا۔

اگلے دولت مشترکہ کھیل تیئس جولائی سنہ دو ہزار چودہ کو شروع ہوں گے جس میں سترہ کھیلوں میں گیارہ دنوں تک کھلاڑی حصہ لیں گے۔

دولت مشترکہ میں کل چوّن ممالک ہیں لیکن کھیلوں میں ستر ممالک حصہ لیں گے۔

اسی بارے میں