آن سے بولنگ اور پھر شان سے بیٹنگ

مصباح الحق کے لیے ابوظہبی ٹیسٹ کے دونوں دن مطمئن ہونے کا معقول جواز موجود ہے۔

ٹاس ہارنے کے باوجود پاکستان کے بولرز نے ایک ورلڈ کلاس بیٹنگ لائن کو تین سو سے کم سکور پر محدود کر دیا اور پھر اوپنرز نے بھی انہیں مایوس نہیں کیا۔

شان مسعود نے پہلی ہی گیند پر چوکا لگا کر شان سے ابتدا کی لیکن سب سے اہم بات یہ کہ جو اعتماد ان میں اور خرم منظور میں دکھائی دیا اسی کے فقدان کے سبب پاکستانی ٹیم پچھلے کئی میچز میں ایک مضبوط بنیاد سے محروم رہی تھی اور اسی پریشانی کو دور کرنے کی کوشش کے طور پر تیسری سیریز میں ان دونوں کی شکل میں یہ پانچواں اوپننگ پیئر میدان میں اتارا گیا ہے۔

وکٹ بیٹنگ کے لیے موزوں صحیح لیکن سامنے سٹین، مورکل اور فیلینڈر ہوں تو تکنیک کے ساتھ ساتھ دل بھی بڑا ہونا چاہیے۔

دونوں اوپنرز کی 135 رنز کی شراکت اکیس ٹیسٹ اننگز کے بعد پاکستان کی پہلی سنچری کی اوپننگ پارٹنر شپ تھی۔

شان مسعود اولین ٹیسٹ میچ میں سنچری کے سنگ میل سے قریب ہوتے جا رہے تھے لیکن 75 کے سکور پر پارٹ ٹائم بولر ڈومینی انہیں اس خوشی سے دور لے گئے۔ انہوں نے ریویو کا اشارہ بھی کیا لیکن انہیں یہ فیصلہ کرنے میں دیر ہو چکی تھی۔

شان مسعود کے برخلاف خرم منظور نے بالاخر اپنے دسویں ٹیسٹ میں پہلی سنچری کی خوشی کو پا ہی لیا۔

خرم منظور 2010 کے ہوبارٹ ٹیسٹ میں77 رنز کی اننگز کھیلنے کے باوجود ٹیم سے صرف اس الزام پر باہر ہوئے تھے کہ ان کی تکنیک درست نہیں۔

یہ اور بات ہے کہ پاکستانی ٹیم کے کسی بھی کوچ نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں جاکر ان کی تکنیک درست کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور جب تین سال بعد زمبابوے کے دورے میں اُن کی واپسی ہوئی تو دوسرےٹیسٹ کی دونوں اننگز میں انہوں نے نصف سنچریاں بنا ڈالیں۔

اوپنرز نے بڑے سکور تک پہنچنے کا جو موقع فراہم کیا تھا وہ اظہر علی اور یونس خان کی وکٹیں گرنے سے ضائع ہوتا محسوس ہوا لیکن خرم اور مصباح اعتماد سے حریف کا وار جھیل گئے۔ ان دونوں کے بعد اسد شفیق کے ہوتے ہوئے ایک بڑی برتری کی توقع کی جاسکتی ہے۔

اس سے قبل پاکستانی بولرز نے جنوبی افریقی بساط صرف انیس گیندوں میں لپیٹ دی اور ہاشم آملہ سکور میں کسی اضافے کے بغیر محمد عرفان کی اننگز میں تیسری وکٹ بنے ۔

سعید اجمل کا ’دوسرا‘ ہی انہیں اننگز میں دوسری وکٹ دلوا گیا۔

بولرز کی یہ کارکردگی یقیناً دل خوش کرنے والی ہے لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ محمد عرفان کو پہلے دن شدید گرمی میں کریمپ پڑنے کے سبب میدان سے باہر جانا پڑا تھا۔

ابھی انہیں دوسری اننگز میں بھی بولنگ کرنی ہے ۔ اگرچہ اس بار عرفان کو بلند بانگ دعووں کے ساتھ ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے لیکن ون ڈے سیریز کے آتے آتے وہ خود کو کتنا فٹ رکھتے ہیں اس بارے میں کوئی بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔

اسی بارے میں