محمد عامر پر نرمی کی درخواست

Image caption محمد عامر پر سنہ دو ہزار پندرہ میں پابندی ختم ہو گی

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے لندن میں جمعہ کو شروع ہونے والے اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستانی فاسٹ بالر محمد عامر پر پانچ سالہ پابندی میں نرمی کرنے کا معاملہ اٹھائے گا۔

لندن میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا اجلاس دو دن جاری رہنے کی توقع ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نےآئی سی سی کے گزشتہ اجلاس میں بھی محمد عامر کا معاملہ اٹھایا تھا۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق آئی سی سی کے ضابطوں میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کہ کسی کھلاڑی پر پانبدی کی مدت میں کمی کی جا سکے اور اس بات کی امید نہیں کی جا سکتی کہ پانچ سال سے قبل محمد عامر کی عالمی کرکٹ میں واپسی ممکن ہو سکے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ اس کوشش میں ہے کہ پانچ سالہ پابندی ختم ہونے سے قبل اس باصلاحیت اور نوجوان بالر کو پاکستان کے اندر کھیلی جانے والی کرکٹ اور تریبت کی اجازت مل جائے تاکہ جب ان پر پابندی ختم ہو تو وہ فوری طور پر عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے قابل ہوں۔

محمد عامر پر آئی سی سی کی طرف سے عائد کردہ پابندی کے تحت وہ اس وقت کرکٹ کے حوالے سے کسی نوعیت کی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ محمد عامر کے گزشتہ چار سال میں پابندی کے دوران رویے، آئی سی سی سے تعاون کرنے اور دیگر عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے شاید انھیں پانچ سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے ملکی سطح پر کھیلی جانے والی کرکٹ اور تربیت کی اجازت دے دیں۔

محمد عامر پر سنہ دو ہزار دس میں اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ اور تیز رفتار بالر محمد آصف سے سپاٹ فکسنگ کے الزامات ثابت ہونے کے بعد کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

محمد آصف اور سلمان بٹ پر دس دس سال کی پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ محمد آصف پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی تھی۔

سپاٹ فکسنگ کا یہ سکینڈل ایک برطانوی اخبار ’دی سن‘ نے آشکار کیا تھا۔

اسی بارے میں