اپنی غلطی کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں: عامر

Image caption محمد عامر پر سنہ دو ہزار پندرہ میں پابندی ختم ہو گی

پاکستانی فاسٹ بالر محمد عامر کے مطابق وہ امید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل ان کی سزاء کو معاف کرتے ہوئے انہیں ملکی سطح پر کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق جمعہ کو لندن میں شروع ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس میں محمد عامر پر پانچ سالہ پابندی میں نرمی کرنے کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔

محمد عامر پر نرمی کی درخواست

پاکستان کرکٹ بورڈ نےآئی سی سی کے گزشتہ اجلاس میں بھی محمد عامر کا معاملہ اٹھایا تھا۔

اکیس سالہ محمد عامر نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا’ہر کسی کو زندگی میں دوسرا موقع ملتا ہے، میں دعا کرتا ہوں کہ آئی سی سی مجھے دوسرا موقع دے گی‘۔

’میں نے سال دو ہزار دس میں جو کیا وہ خوفناک اور غلط تھا میں نے اس کی قمیت بھی ادا کی، میری ساکھ ختم ہو گئی، ملک کو نقصان ہوا اور خاندان کو دکھ پہنچا‘۔

محمد عامر کے بقول’مجھے سبق مل گیا ہے اور میں وہ کھیل نہ کھیلنے پر مایوسی ہوں جس سے مجھے پیار ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ’ مجھے اپنی حرکت پر بہت تکلیف ہوئی اور اس سے میرا خاندان بھی متاثر ہوا۔میں اس وقت کی جانے والی اپنی غلطی کو ٹھیک کرنا چاہتا ہوں‘۔

محمد عامر پر سنہ دو ہزار دس میں اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان بٹ اور تیز رفتار بالر محمد آصف سے سپاٹ فکسنگ کے الزامات ثابت ہونے کے بعد کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

محمد آصف اور سلمان بٹ پر دس دس سال کی پابندی لگا دی گئی تھی جبکہ محمد آصف پر پانچ سال کی پابندی لگائی گئی تھی۔

سپاٹ فکسنگ کا یہ سکینڈل ایک برطانوی اخبار ’دی سن‘ نے آشکار کیا تھا۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق آئی سی سی کے ضابطوں میں ایسی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے کہ کسی کھلاڑی پر پانبدی کی مدت میں کمی کی جا سکے اور اس بات کی امید نہیں کی جا سکتی کہ پانچ سال سے قبل محمد عامر کی عالمی کرکٹ میں واپسی ممکن ہو سکے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ اس کوشش میں ہے کہ پانچ سالہ پابندی ختم ہونے سے قبل اس باصلاحیت اور نوجوان بالر کو پاکستان کے اندر کھیلی جانے والی کرکٹ اور تریبت کی اجازت مل جائے تاکہ جب ان پر پابندی ختم ہو تو وہ فوری طور پر عالمی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے کے قابل ہوں۔

محمد عامر پر آئی سی سی کی طرف سے عائد کردہ پابندی کے تحت وہ اس وقت کرکٹ کے حوالے سے کسی نوعیت کی سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکتے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ محمد عامر کے گزشتہ چار سال میں پابندی کے دوران رویے، آئی سی سی سے تعاون کرنے اور دیگر عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے شاید انھیں پانچ سال کی مدت ختم ہونے سے پہلے ملکی سطح پر کھیلی جانے والی کرکٹ اور تربیت کی اجازت دے دیں۔

اسی بارے میں