دم توڑتی یہ مزاحمت آخر اور کتنی دیر؟

Image caption اظہر علی ایک بار پھر بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے

کسی کو بھی اس بات کا یقین نہیں ہے کہ جس ٹیم کی بساط ایک یا دو سیشن میں ہی لپیٹ دی جاتی ہو وہ پورے دو دن بیٹنگ کرکے میچ بچاسکے۔ تیسرے دن چار وکٹیں گرجانے کے بعد اب صرف اس سوال کا جواب باقی ہے کہ دم توڑتی یہ مزاحمت آخر اور کتنی دیر؟ کیا شاید اتنی دیر جب تک کپتان مصباح الحق کریز پر ہیں؟

لیکن تیسرے دن کی سب سے بڑی خبر جنوبی افریقی ٹیم کا بال ٹیمپرنگ میں ملوث ہونا ہے اس پر پانچ رنز کا جرمانہ ہوا اور کھیل کے بعد کھلاڑیوں کو میچ ریفری کے سامنے پیشی بھی بھگتنی پڑے گی۔

2006 کے اوول ٹیسٹ کے بعد ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے لیکن انضمام الحق کے برعکس جنہوں نے یہ ماننے سے انکار کردیا تھا کہ ان کی ٹیم نے بال ٹیمپرنگ کی ہے جنوبی افریقی کپتان گریم سمتھ کی خاموشی اعتراف جرم ہے۔

گریم سمتھ نے دوسرے دن کے اختتام پر ہی یہ واضح کردیا تھا کہ انہیں ڈکلیئرکرنے کی جلدی نہیں اور وہ پاکستانی بولنگ کے زخموں پر مزید نمک چھڑکنے کی کوشش کریں گے۔

سمتھ اور ڈی ویلئرز کی ٹرپل سنچری پارٹنرشپ تیسرے دن طول نہ پکڑسکی اور آخری چھ وکٹیں سکور میں صرف ستاون رنز کا اضافہ کرسکیں۔ لیکن چار سو اٹھارہ رنز کی برتری پاکستانی ٹیم کو بے سکون کرنے کے لیے بہت تھی ۔

محمد عرفان نے ایک مرتبہ پھر دل سے بولنگ کی اور تین وکٹیں حاصل کیں۔ لیکن بار بار وکٹ کے سامنے آجانے پر امپائرز کی تنبیہہ کے بعد بالآخر وہ بولنگ سے روک دیے گئے۔

Image caption اجمل مورکل کے خلاف اپیل پر ریویو بھی لینا چاہتے تھے لیکن انہیں پتہ نہیں تھا کہ پاکستان کے پاس کوئی ریویو نہیں بچا ہے

عرفان گریم سمتھ کی وکٹ کے بجا طور پر حقدار تھے لیکن ’چھوٹے اکمل‘ نے ’بڑے اکمل‘ کی یاد دلاتے ہوئے آسان کیچ گرادیا۔ اس سے قبل وہ عرفان ہی کی گیند پر ڈی ویلیئرز کا صفر پر کیچ گراچکے تھے۔

عدنان اکمل کو دیکھ کر اس سیریز میں ایسا محسوس ہوا جیسے کامران اکمل کھیل رہے ہوں۔

سعید اجمل نے آج چار وکٹوں پر ہاتھ صاف کیا۔ انہوں نے مورکل کو آؤٹ نہ دیے جانے پر امپائر ایئن گلڈ کو آنکھیں بھی دکھائیں اور جب اگلی ہی گیند پر انہوں نے مورکل کی وکٹ حاصل کی تو ان کے جشن میں خوشی کے بجائے غصہ تھا۔ ان کا یہ انداز امپائر گلڈ کو بالکل پسند نہ آیا۔

اجمل مورکل کے خلاف اپیل پر ریویو بھی لینا چاہتے تھے لیکن انہیں پتہ نہیں تھا کہ پاکستان کے پاس کوئی ریویو نہیں بچا ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کرکٹ کے بدلتے قوانین کے بارے میں کتنی معلومات رکھتے ہیں۔

جنوبی افریقی بیٹنگ کے گھاؤ کے بعد پاکستانی بیٹنگ نے بھی جلتی پہ تیل کا کام کیا۔

خرم منظور اور شان مسعود کا اعتماد پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز کی سنچری کی شراکت کے بعد ایک کے بعد ایک تین اننگز میں بری طرح ناکام ہونے کے نتیجے میں بکھر چکا ہے۔ دونوں کو یقیناً اس بات کا اندازہ ہوگیا ہوگا کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کرنا کتنا آسان ہے۔

پارٹ ٹائم بولر ڈومینی کا شکار بننے والے اظہر علی چودہ اننگز میں صرف دو نصف سنچریاں سکور کرنے کے بعد ٹیم سے ڈراپ ہوگئے تو کسی کو حیرت نہیں ہوگی۔

یونس خان نے کیلس کے ڈراپ کیچ سے بھی سبق نہ سیکھا اور عمران طاہر کی گیند پر جس طرح بولڈ ہوئے وہ کسی اعتبار سے ان جیسے تجربہ کار اور جوش کے بجائے ہوش سے کھیلنے والے بیٹسمین کے شایان شان نہ تھا۔

اسی بارے میں