ڈو پلیسی اور آفریدی کی سزاؤں میں فرق کیوں؟ آئی سی سی کو خط لکھنے کا فیصلہ

Image caption نجم سیٹھی نے کہا کہ آئی سی سی اس بات کی بھی وضاحت مانگیں گے کہ ڈو پلیسی کی جانب سے کی گئی بال ٹیمپرنگ کے واقعے میں انہوں نے کیا دیکھا کہ میچ کی آدھی فیس کا جرمانہ ہی کیا گیا

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بال ٹیمپرنگ کے حوالے سے جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ڈو پلیسی اور شاہد آفریدی کی سزاؤں میں فرق پر آئی سی سی کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی سنیچر کو کہا کہ آئی سی سی کوخط لکھنے کے بارے میں پی سی بی نے فیصلہ کرلیا ہے اور پیر تک آئی سی سی کو خط لکھ دیا جائے گا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پی سی بی خط میں آئی سی سی سے شاہد آفریدی اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ڈوپلیسی کی سزاؤں میں فرق کے بارے میں جواب مانگے گا۔

بال ٹیمپرنگ پر ڈو پلیسی کو جرمانہ

بال ٹیمپرنگ کی تاریخ

ان کا کہنا تھا کہ وہ آئی سی سی سے اس بات کی بھی وضاحت طلب کریں گے کہ کیا وجہ تھی کہ ڈو پلیسی کی بال ٹیمپرنگ کے بعد انھیں میچ کی آدھی فیس کا جرمانہ ہی کیا گیا۔

خیال رہے کہ پاکستانی کرکٹر شاہد آفریدی آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ میچ میں گیند کی سلائی کو دانتوں سے کھینچتے ہوئے کیمروں کی نظر میں آگئے۔ ان پر اگلے دو میچوں کے لیے پابندی اور جرمانہ کیا گیا تھا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ پی سی بی کا جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ میچ ریفری آئی سی سی کا ہوتا ہے اس لیے اس معاملے کے بارے میں وضاحت آئی سی سی سے مانگی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بال ٹیمپرنگ کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور خصوصاً ڈو پلیسی کو کم سزا دینے پر پاکستانی عوام اور سابق کرکٹرز سمیت سب لوگوں کو تحفظات ہیں۔

واضح رہے کہ دبئی میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ڈو پلیسی کو پتلون کی زپ سے گیند کو رگڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

اس پر فیلڈ امپائرز نے جنوبی افریقہ کے کپتان گریم سمتھ کو بلا کر تنبیہ کی اور گیند تبدیل کردی اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو پانچ پینلٹی رنز بھی دیے گئے۔

میچ کے تیسرے روز کے اختتام پر میچ ریفری ڈیوڈ بون نے جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ڈو پلیسی کو طلب کیا۔ اس کے بعد ڈیوڈ بون نے ایک بیان میں کہا ’ڈو پلیسی کے ساتھ بات چیت کرنے کے بعد ۔۔۔ ڈو پلیسی کی طرف سے گیند میں تبدیلی لانے کی یہ دانستہ کوشش نہیں تھی۔ میرے خیال میں ڈو پلیسی پر میچ فیس کا پچاس فیصد جرمانہ مناسب ہے‘۔

جنوبی افریقہ کے مینیجر محمد موسیٰ جی کا کہنا تھا ’میچ ریفری کی جانب سے دی گئی سزا کو ٹیم نے تسلیم کیا۔ ٹیم نے باقاعدہ سماعت کے حق میں فیصلہ نہیں کیا کیونکہ آئی سی سی کے قواعد و ضوابط کے مطابق باقاعدہ سماعت پر ڈو پلیسی کو زیادہ سخت سزا ہو سکتی تھی‘۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بالر شعیب ملک کا کہنا ہے ’مجھے اس فیصلے سے بڑی حیرانی ہوئی ہے۔ پاکستان کی آئی سی سی میں کوئی آواز نہیں ہے‘۔

واضح رہے کہ سنہ 2003 میں سری لنکا میں کھیلے جانے والے سہ فریقی ٹورنامنٹ میں شعیب اختر کو بال ٹیمپرنگ پر دو ایک روزہ میچ کی پابندی کی سزا ملی تھی جبکہ میچ فیس کا 75 فیصد جرمانہ ہوا تھا۔

پاکستان کے سابق کپتان راشد لطیف نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ان ثبوتوں کے ہوتے ہوئے اتنی کم سزا کیسے دی جاسکتی ہے؟ ڈو پلیسی پر کم از کم چھ ماہ کے لیے پابندی لگا دینی چاہیے تھی اور کپتان گریم سمتھ کو بھی سزا دینی چاہیے تھی‘۔

دوسری جانب پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل کا کہنا ہے کہ ڈو پلیسی کو دی گئی سزا مناسب ہے۔

’میرے خیال میں یہ سزا کم نہیں ہے۔ یہ سزا آئی سی سی کے قواعد و ضوابط کے مطابق اور ڈو پلیسی نے الزام کی تردید نہیں کی اس لیے سزا کم دی گئی‘۔

اسی بارے میں