جیت جو نظروں سے اوجھل ہوگئی

دبئی اسٹیڈیم کی ویرانی کے برعکس شارجہ کے میدان میں شائقین کا دھوم دھڑ کا رہا لیکن انہیں پاکستانی بیٹسمینوں نے جشن منانے کا موقع ہی نہیں دیا کیونکہ ایک کے بعد ایک وکٹ گرتی گئی اور سامنے نظر آنے والی جیت نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

پاکستانی ٹیم کی چھوٹے ہدف کو اعصاب پر سوار کرنے کی کمزوری اس بار بھی کھل کر سامنے آئی۔

احمد شہزاد اور مصباح الحق جب تک کریز پر تھے شاید ہی کوئی سوچ سکتا تھا کہ یہ میچ اس طرح ان سے آنکھیں بدلے گا لیکن مصباح کے آؤٹ ہوتے ہی جیسے بیٹسمینوں کے ہاتھ پیر پھول گئے۔

پاکستان نے آخری سات وکٹیں صرف سنتالیس رنز پر گنوائیں۔ بیٹنگ کے سورماؤں کے ناکام ہونے کے بعد ٹیل اینڈرز سے جیت کی آس لگانا ان کے ساتھ زیادتی تھی۔

پاکستان نے جس اسپن بولنگ سے جنوبی افریقی بیٹنگ کا شکار کیا تھا جواب میں اسے بھی اسپن بولنگ کے مہلک وار کا سامنا رہا۔

عمران طاہر پاکستانی بیٹسمینوں کے لئے اس دورے میں شین وارن بن گئے ہیں۔ پارنل اور سوٹسوبے کی ضربیں بھی کم تکلیف دہ نہ تھیں۔

جنوبی افریقی ٹیم کی فائٹنگ اسپرٹ اسے میچ میں واپس لائی اس نے کسی بھی موقع پر ہاتھ کھڑے نہیں کیے کیونکہ اسے اندازہ ہے کہ پاکستانی بیٹنگ میں ایک بار دراڑ پڑجائے تو اسے گرانا آسان ہوجاتا ہے۔

پاکستان کی شکست پر سب سے زیادہ دکھ اس کے بولرز کو ہوگا جنہوں نے سیریز کا آغاز جیت سے کرنے کا پورا پورا سامان مہیا کردیا تھا۔

اگر پاکستانی بولنگ ٹیل اینڈرز کو قابو کرنے کا ہنر سیکھ لے تو اس کی پریشانیوں میں کمی آسکتی ہے۔

جنوبی افریقہ نے جو بھی اسکور بنایا وہ آٹھویں نمبر پر بیٹنگ کرنے والے وین پارنل کی نصف سنچری اور ڈیوڈ ملر کے سنتیس رنز کی مرہون منت تھا کیونکہ محمد عرفان کی میچ کی دوسری ہی گیند پر حاصل ہونے والی وکٹ کے بعد ٹاپ آرڈر بیٹنگ سعید اجمل کےہاتھوں کچلی جاچکی تھی جنہوں نے اپنی چار وکٹوں میں سے پہلی تین صرف سولہ گیندوں میں حاصل کرڈالی تھیں۔

شاہد آفریدی کو اپنی تین میں سے دو وکٹیں ایک ہی اوور میں ملیں لیکن پارنل اور سوٹسوبے سعید اجمل کے ساتھ ساتھ ان کے قابو میں بھی نہیں آئے۔

شارجہ کے سنسنی خیز میچوں میں ایک اور کا اضافہ ہوگیا۔ جنوبی افریقہ کو اس جیت سے اعتماد مل گیا اور پاکستان کو خسارے میں جانے کے بعد سیریز صفر سے شروع کرنی ہوگی ابھی چار میچز باقی ہیں لیکن بیٹسمینوں نےاگر غلطیوں سے سبق نہ سیکھا اور غیرذمہ داری کا مظاہرہ کرتے رہے تو ایک صفر کا یہ خسارہ بڑھ بھی سکتا ہے۔

اسی بارے میں