وہی پرانا سکرپٹ اور وہی فلاپ فلم

Image caption ڈیل سٹین کے ایک ہی اوور نے سب کچھ پلٹ کر رکھ دیا

جنوبی افریقہ کی ٹیم نے فیصلہ کن گھڑی میں اعصاب پر مکمل طور پر قابو رکھتے ہوئے ممکنہ شکست کو جیت میں تبدیل کردیا۔

پاکستانی ٹیم کے لیے یہ شکست اس لیے تکلیف دہ ہے کہ وہ سیریز برابر کرنے کی پوزیشن میں آگئی تھی لیکن ڈیل سٹین کے ایک ہی اوور نے سب کچھ پلٹ کر رکھ دیا۔

اپنے نویں اوور میں سٹین نے عمر اکمل مصباح اور سعید اجمل کی وکٹیں حاصل کر ڈالیں اس سے قبل انہوں نے اپنے پہلے ون ڈے میں نصف سنچری بنانے والے صہیب مقصود اور سہیل تنویر کو بھی پویلین کا راستہ دکھایا تھا۔

ایک پراعتماد آغاز کے بعد پاکستان نے یکے بعد دیگر تین وکٹیں گنوائیں۔ احمد شہزاد کی عمدہ اننگز رن آؤٹ کی بھینٹ چڑھی۔ حفیظ جنوبی افریقہ کے سپنر عمران طاہر کی سیدھی گیند پر بولڈ ہوئے اور اسد شفیق دوسری ہی گیند پر وکٹ گنواکر یہ سوال چھوڑ گئے کہ کیا وہ ون ڈے کے اہل ہیں؟

اپنا پہلا ون ڈے انٹرنیشنل کھیلنے والے صہیب مقصود نے بے خوف بیٹنگ کی اور کھل کر سٹروکس کھیلے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد مصباح الحق پر ہی جیت کا دارومدار تھا لیکن ڈیپ مڈ وکٹ پر اپنے ہم منصب کے ہاتھوں کیچ ہوکر وہ یہ امید بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

شاہد آفریدی کی بیٹنگ بن موسم کی برسات ہے۔ اس بار بھی انہیں ہیرو بننے کا اچھا موقع ملا تھا لیکن ہوا میں بلے چلانے کے بعد پویلین کی طرف چل پڑے اور انہیں چلتا دیکھ کر شائقین بھی۔

صرف بیٹسمینوں کا کیا رونا اس بار تو بولرز نے بھی اپنے کپتان سے آنکھیں پھیر لیں۔

Image caption شاہد آفریدی کو اس بار بھی ہیرو بننے کا اچھا موقع ملا لیکن ہوا میں بلے چلانے کے بعد پویلین کی طرف چل پڑے اور انہیں چلتا دیکھ کر شائقین بھی

پاکستانی ٹیم کو محمد حفیظ کے ہاتھوں ڈی کوک کا دو رنز پر کیچ ڈراپ ہونے کی کڑی سزا ملی جنہوں نے تجربہ کار ہاشم آملا کے ساتھ پہلے تو ایک بڑے سکور کی بنیاد رکھی اور پھر خود جوشیلے سٹروکس ہوش مندی سے کھیلتے ہوئے پہلی سنچری سکور کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ وکٹ کے دونوں جانب ان کے خوبصورت سٹروکس نے فیلڈرز کو بھی تماشائی بنادیا۔

کوئنٹن ڈی کوک کا ٹیلنٹ خوب سامنے آیا ہے۔ شاید ہمارے بیٹسمین اس بیس سالہ نوجوان سے کچھ سیکھنے کی کوشش کرسکیں لیکن اگر سیکھنا ہی ہوتا تو ویرات کوہلی کی مثال بھی موجود ہے کہ وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ انہی کے ساتھ کرکٹ شروع کرنے والے پاکستانی بیٹسمین آج اپنی غیرسنجیدگی کا اعتراف کرنے کے بجائے کیسے کیسے جواز پیش کرتے ہیں۔

اننگز کے آخری دس اوورز میں اگرچہ پاکستان کو جنید خان نے اے بی ڈی ویلیئرز اور ڈی کوک کی وکٹیں دلا دیں لیکن جے پی ڈومینی اور میک لارن کی اڑتیس گیندوں پر نصف سنچری شراکت اور سعید اجمل کے آخری اوور میں لگے دو چھکوں نے جنوبی افریقہ کو سیریز کے سب سے بڑے سکور تک پہنچادیا۔

سعید اجمل اگر وکٹ سے محروم ہوں یا غیرموثر ثابت ہوں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس کا اثر ٹیم پر کتنا پڑتا ہے۔ شاہد آفریدی کو بھی وکٹ نہ ملی۔

سب سے دلچسپ بات تو یہ تھی کہ ڈوپلیسی کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل کرتے ہی وہ اس قدر جذباتی ہوگئے کہ کپتان مصباح الحق کی طرف دیکھے بغیر خود ہی ریویو لے لیا لیکن امپائر کا ناٹ آؤٹ فیصلہ برقرار رہا اور اننگز کا واحد ریویو ہاتھ سے نکل گیا۔

سہیل تنویر اس سے بری بولنگ نہیں کرسکتے تھے جو انہوں نے کی۔ مسلسل کھیلتے رہنے سے محمد عرفان کی ہمت بھی اب جواب دینے لگ گئی ہے ۔

اسی بارے میں