بے جان بے رنگ میچ بھی تکلیف دے گیا

Image caption پاکستان سیریز بھی ہار گیا

پاکستانی ٹیم نے ون ڈے سیریز جس تکلیف دہ انداز میں شروع کی تھی اس کا اختتام بھی اسی شرمناک اور مایوس کن انداز میں کیا۔

سیریز گنوانے کے بعد شارجہ میں محض دل کو تسلی دینا باقی رہ گیا تھا لیکن یہ بے جان اور بے رنگ میچ مزید تکلیف دے گیا۔

مصباح الحق کا پہلے ٹاس پر بس نہ رہا اور پھر ان کے بولرز اور بیٹسمین بھی ان کے قابو میں نہ رہے۔

کپتان اے بی ڈی ویلیئرز کی شاندار سنچری خاص کر آخری دس اوورز میں ان کی جارحانہ بیٹنگ نے ڈیل سٹین اور عمران طاہر کے بغیر بولنگ اٹیک کو بھی یہ موقع فراہم کردیا کہ وہ 268 رنز کا دفاع کرسکے۔

سیریز کے پانچویں میچ میں بھی ٹاس جیتنے والی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کی لیکن محمد عرفان نے پہلے ہی اوور میں ہاشم آملہ کو خوبصورتی سے شکار کرلیا جو اس سال چھ مرتبہ طویل قامت بولر کی زد میں آچکے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اس کے بعد محمد عرفان کو مزید وکٹ نہ مل سکی۔

کوئنٹن ڈی کاک نے عرفان کے ایک ہی اوور میں چار چوکے لگائے لیکن اس سے پہلے کہ پاکستانی ٹیم ان کی ایک اور بڑی اننگز تلے دب جاتی اسے سعید اجمل نے اس خطرے سے چھٹکارہ دلایا۔

جے پی ڈومینی کی وکٹ گرنے پر پاکستانی ٹیم مضبوط پوزیشن میں دکھائی دی۔ ڈوپلیسی اور اے بی ڈی ویلیئرز کی 62 رنز کی شراکت موقع کی مناسبت سے اہم تھی ۔

جنوبی افریقہ نے پاور پلے میں 21 رنز کے عوض ملر کی وکٹ گنوائی لیکن اس کے بعد بیٹسمینوں نے خوب ہاتھ کھولے۔ اے بی ڈی ویلیئرز نے سعید اجمل کو چھکا لگایا تو مک لارن نے عرفان کو دوبار باؤنڈری کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے جنید خان کے خلاف بھی چوکوں کی ہیٹ ٹرک کی لیکن یہ اے بی ڈی ویلیئرز تھے جنہوں نے سہیل تنویرکو کٹھ پتلی تماشا بنا دیا جنہوں نے اننگز کے آخری اوور میں 25 اوورز دے ڈالے۔

پاکستان کی اننگز میں سوائے باصلاحیت صہیب مقصود کی عمدہ بیٹنگ کے سوا کچھ بھی نہ تھا جنہوں نے مسلسل دوسری نصف سنچری اسکور کی۔

محمد حفیظ اس مقام پر خود کو لے جا رہے ہیں جہاں وہ ٹیسٹ کے بعد ون ڈے میں بھی اپنی انتہائی مایوس کن کارکردگی کے سبب ٹیم سے باہر ہوسکتے ہیں۔

عمرامین اس سیریز میں پوری طرح ایکسپوز ہوگئے ہیں کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے چار روزہ میچوں کے سکور کی بنیاد پر انہیں مسلسل ون ڈے کھلاتے رہنا خود ان کے اور ٹیم کے ساتھ زیادتی ہے۔

مصباح الحق ایک بار پھر اسی پوزیشن میں بیٹنگ کرنے آئے جب ابتدائی تین بیٹسمین سارا ملبہ ان پر ڈال کر پویلین میں جابیٹھے تھے۔

مصباح الحق ایک ایسی ٹیم کے کپتان ہیں جس کے بیٹسمین نہ ان سے پہلے کھیلتے ہیں اور نہ ان کے بعد ۔

مصباح الحق کے آؤٹ ہونے کے بعد عمراکمل نے دو ڈراپ کیچوں سے بھی سبق نہ سیکھا۔ وہ وکٹ کیپر کی اضافی خصوصیت کے بل پر سیریز کے پانچوں میچ کھیلے لیکن پانچ اننگز میں ان کے کل رنز سو سے بھی کم رہے۔

شاہد آفریدی بھی بیٹنگ میں نہ ’ ہیڈ ‘جھکا سکے نہ ’شولڈر‘ پر ذمہ داری لے پائے۔

پاکستان کی آخری چھ وکٹیں اسکور میں صرف 41 رنز کا اضافہ کرسکیں۔ گویا ہر کوئی جلد سے جلد جان چھڑانا چاہتا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے شائقین تو پاکستانی کرکٹروں کی اس بیزار کن کارکردگی سے اکتاگئے تو کیا اب دوبارہ جنوبی افریقہ والوں کی باری ہے؟

اسی بارے میں