عالمی فٹبال کپ: ڈوپ ٹیسٹ سوئٹزرلینڈ میں کرانے کا فیصلہ

Image caption برازیل فٹبال کے سنہ 2014 کے عالمی کپ کا میزبان ہے

فٹبال کے عالمی ادارے فیفا نے برازیل میں ہونے والے فٹبال کے سنہ 2014 کے عالمی کپ کے لیے کھلاڑیوں کے ڈوپ ٹیسٹ سوئٹزرلینڈ کی سند یافتہ لیبارٹری میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

برازیل فٹبال کے عالمی کپ سنہ 2014 کا میزبان ہے لیکن وہاں پر کھلاڑیوں میں ممنوعہ ادویات کے استعمال پرکھنے یا اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ کے لیے کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔

عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی یا ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) نے اس سال کے اواخر میں برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں واقع لیبارٹری کی اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ کرنے کی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔

چونکہ اس لیبارٹری کو آئندہ موسمِ سرما تک ٹیسٹ کرنے کا سند نہیں دیا جا سکتا اس لیے کھلاڑیوں کے اینٹی ڈوپنگ ٹیسٹ کے لیے نمونے سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان بھیج دیے جائیں گے۔

فیفا نے ایک بیان میں کہا کہ ’آئندہ سال عالمی کپ کے لیے فیا اور واڈا کھلاڑیوں کے خون اور پیشاب کے نمونوں کے بہترین ممکن تجزیے اور ڈوپنگ کے خلاف نئی حکمتِ عملی پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ ’فیفا اب ٹیسٹ کے نمونوں کو لوزان بھیجنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔‘

فیفا کے جنرل سیکریٹری ژیغوم ویلک نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ ’فیفا کا اینٹی ڈوپنگ کا فیصلہ ہماری پہلی ترجیح نہیں تھا لیکن واڈا کے ساتھ مل کر عالمی کپ کی ساکھ کو بچانے کے لیے ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔‘

گذشتہ مہینے فیفا کے چیف میڈیکل آفیسر مائیکل ڈوو گی نے کہا تھا کہ ’یہ یقین کرنا ناممکن ہے‘ کہ برازیل میں جو سنہ 2016 کے اولمکپس مقابلوں کی میزبانی بھی کرنے والا ہے، ڈوپ ٹیسٹ کرنے کی سہولیات نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ ٹیسٹ کے لیے نمونے یورپ بھیجنے سے خرچہ بڑھ جائے گا اور اس سے ٹیسٹ کرنے کے عمل میں تاخیر ہو گی۔

واڈا کی طرف سے سند یافتہ لوزان میں واقع لیبارٹری کو برازیل میں سنہ 2013 کے کنفیڈریشن کپ میں شامل کھلاڑیوں کے خون کے نمونوں کی جانچ کے لیے بھی استعمال کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں