پاکستانی بیٹسمین کب تک سینے پر مونگ دلیں گے؟

Image caption محمد حفیظ نے قیادت ملتے ہی اپنے آؤٹ آف فارم ہونے پر خود کو بیٹنگ آرڈر میں نیچے کرلیا

اب تو قیادت روشن دماغ ’ پروفیسر‘ کو منتقل ہوگئی ہے تو اس میں یقیناً نمایاں تبدیلی آنی چاہیے تھی لیکن نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات۔

پاکستانی ٹیم کے بنائے گئے 98 رنز ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں اس کا چوتھا سب سے کم سکور ہے ۔

ڈیل سٹین، تسوتسوبے اور عمران طاہر کے وار مہلک ثابت ہوئے۔

محمد حفیظ نے قیادت ملتے ہی اپنے آؤٹ آف فارم ہونے پر خود کو بیٹنگ آرڈر میں نیچے کرلیا اور صہیب مقصود اس فیصلے کی بھینٹ چڑھ گئے جنھیں ان کی اپنی ون ڈاؤن پوزیشن کے بجائے احمد شہزاد کے ساتھ اننگز کے آغاز کے لیے کہا گیا۔

اس سال ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں رنز کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر احمد شہزاد پہلے ہی اوور میں تسوتسوبے کی گیند پر سلپ میں ہاشم آملہ کو کیچ تھما بیٹھے۔

دو ون ڈے نصف سنچریاں سکور کرنے والے صہیب مقصود میچ کے دوسرے ہی اوور میں سٹین کی وکٹ بنے جنھوں نے دو گیندیں بعد ہی محمد حفیظ کو ایک بار پھر اپنے شکنجے میں کس لیا۔ چار رنز پر تین وکٹیں گنوانے کے بعد پاکستانی ٹیم میچ پر اپنی گرفت کھوچکی تھی۔

شاہد آفریدی کریز پر اب محض رسم پوری کرنے آتے ہیں۔ تسوتسوبے کی شارٹ پچ گیند کو انھوں نے پل کیا لیکن ڈیپ بیک ورڈ سکوائر لیگ پر مک لارن نے خوبصورت کیچ لے کران کی 13 گیندوں پر دس رنز کی ایک اور انتہائی مایوس کن اننگز کا خاتمہ کردیا۔

شعیب ملک اور عبدالرزاق کو ٹیم میں شامل کرتے وقت سلیکٹرز نے بیٹنگ لائن کی مضبوطی کے بلند بانگ دعوے کیے تھے لیکن دونوں کی بیٹنگ دیکھ کر ایسا لگا جیسے اب تلوں میں تل نہیں۔

شعیب ملک نے 12 رنز بنانے کے لیے 23 گیندیں کھیلیں لیکن کسی اناڑی کی طرح عمران طاہر کی وائیڈ گیند پر سٹمپ ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

عبدالرزاق نے ورلڈ ٹوئنٹی کے سیمی فائنل میں نہ کھلائے جانے پر کہا تھا کہ وہ آئندہ محمد حفیظ کی کپتانی میں نہیں کھیلیں گے لیکن اب وہ اسی کپتان کی ٹیم میں شامل ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ان کی کارکردگی میں کوئی فرق نہیں آیا اور وہ صرف دس رنز بناکر ایک ایسا شاٹ کھیلے جس کی اس وقت کوئی ضرورت نہیں تھی۔

وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کوک کی مستعدی کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی جنھوں نے دو کیچ لیے، دو سٹمپ کیے اور ایک کھلاڑی کو رن آؤٹ کیا۔

پاکستان کے سکور کا نصف عمراکمل نے بنایا۔ان کی 49 رنز کی اننگز میں چار چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔

جنوبی افریقہ کی اننگز میں ہاشم آملہ کی وکٹ کھونے کے بعد کپتان ڈوپلیسی اور باصلاحیت ڈی کوک نے بولنگ پر مکمل طور پر حاوی ہوتے ہوئے جیت کو آسان بنادیا۔ دونوں نے وکٹ کے دونوں جانب بھرپور قوت والے سٹروکس کھیلے۔

اجمل، آفریدی، حفیظ اور عبدالرحمٰن پر مشتمل سپن اٹیک انتہائی غیرموثر ثابت ہوا۔ سہیل تنویر کتنے معمولی درجے کے بولر ہیں یہ ثابت کرنے کے لیے اب کچھ نہیں بچا۔

شعیب ملک کی آف سپن اور عبدالرزاق کی دھیمی رفتار والی بولنگ اس میچ میں دیکھنے میں نہیں آئی۔شاید کپتان نے بھی یہی سوچا ہو کہ یہ دونوں بیٹنگ آل راؤنڈرز ہیں اور ویسے بھی ’ پروفیسر‘ صفر پر آؤٹ ہونے اور تین اوورز میں 24 رنز دے دینے کی وجہ سے ذہنی طور پر کچھ اور سوچنے کے قابل ہی نہیں رہے تھے۔

اسی بارے میں