رنگ برنگا کراؤڈ ، بلیک اینڈ وائٹ پرفارمنس

Image caption اوپنرز کے ناکام ہونے کے بعد بقیہ بلے بازوں کے لیے یہ سخت امتحان تھا لیکن پاکستانی بالنگ اپنے امتحان میں بری طرح ناکام رہی

وانڈررز سٹیڈیم کے رنگ برنگے کراؤڈ کے لیے سخت مایوسی رہی کہ بارش نے پہلا ٹی ٹوئنٹی مکمل نہیں ہونے دیا اور یہ ادھورا میچ بارش کے لیے بنائے گئے قواعد و ضوابط کے تحت جنوبی افریقہ کو فاتح بناگیا۔

جب کھیل رکا تو پاکستانی ٹیم ڈک ورتھ لوئس قانون کے مطابق اپنے ہدف سے چار رنز پیچھے تھی اور یہی اس کی شکست کا فرق بھی قرار پایا۔

جوہانسبرگ: پہلے ٹی ٹوئنٹی میں جنوبی افریقہ فاتح

پاکستانی بیٹنگ نے کوئی اچھے آثار نہیں چھوڑے۔ احمد شہزاد ڈیل سٹین کو دو چوکے لگانے کے بعد تسوتسوبے کی گیند کو وکٹوں میں ہی کھیل گئے۔

ناصرجمشید خود کم کھیلے ان کی قسمت زیادہ کھیلی اس کے باوجود وہ 25 گیندوں پر صرف 18 رنز بناکر ڈومینی کے کیچ کا شکار ہوئے۔

جب بارش نے کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے پر مجبورکیا اس وقت محمد حفیظ اور عمراکمل کریز پر تھے۔

اگر بارش کی مداخلت نہ ہوتی تو پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے 10.5 اوورز میں 94 رنز درکار تھے۔

اوپنروں کے ناکام ہونے کے بعد بقیہ بلے بازوں کے لیے یہ سخت امتحان تھا لیکن پاکستانی بالنگ اپنے امتحان میں بری طرح ناکام رہی۔

گرین وکٹ دیکھ کر محمد حفیظ کے منہ میں پانی آ گیا اسی لیے انھوں نے ٹاس جیت کر پہلی آس اپنے بالرز سے باندھی لیکن سعید اجمل کے بغیر ترتیب دیا گیا چار رکنی پیس اٹیک ان کی توقعات پر پورا نہ اترسکا۔

کوئنٹن ڈی کوک اورہاشم آملا نے ہر بالر کی اچھی طرح خاطر مدارت کی۔

انور علی کے دوسرے اوور میں تین چوکے لگے تو سہیل تنویر کے پہلے ہی اوور میں بھی گیند نے تین بار باؤنڈری کی راہ لی۔

جنید خان نے بھی پہلے اوور میں تین چوکوں کا کڑوا گھونٹ پیا جبکہ اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے بلاول بھٹی نے تیز ہونے کی جھلک تو دکھائی لیکن رنز کی رفتار وہ بھی کم نہ کرسکے۔

ڈی کوک نے ایک بار پھر خوبصورت سٹروکس سے دل موہ لیے۔ ہاشم آملہ نے بھی موقع ملنے پر ہاتھ کھولے۔

اگر محمد حفیظ لگاتار اوورز میں ان توپوں کو خاموش نہ کرتے تو دونوں نے پاکستانی بالنگ کو اڑا دینے کا پورا پورا سامان کردیا تھا۔

شاہد آفریدی کفایتی بولنگ کرتے ہوئے ایک وکٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے لیکن دوسری وکٹ کا حصول عمراکمل نے کیچ گرا کر ناممکن بنا دیا۔

جنوبی افریقہ نے72 رنز کے عمدہ آغاز کے بعد 44 رنز پر پانچ وکٹیں گنوائیں لیکن ملر کے دو چوکے اور ایک چھکا ان کی ٹیم کا سکور 153 تک لے آئے۔

آؤٹ آف فارم اور ان فٹ عبدالرزاق اور شعیب ملک کے ٹیم چھوڑنے کے بعد اب 13 کھلاڑی ہی بچے ہیں جن میں سے 11 کومیدان میں اترنا ہے۔

ٹیم منیجمنٹ نے محمد عرفان کو متحدہ عرب امارات میں مسلسل نو میچ میں کھلا کر پہلے ہی ان فٹ کردیا ہے اور جو فٹ ہیں وہ کھیل کر بھی کھیلنے کے قابل نہیں ہیں۔

اسی بارے میں