پاکستان کو بالآخر جیت مل ہی گئی

Image caption پاکستانی ٹیم نے پہلی بار کھل کر بیٹنگ کی اور جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے دوسرے سب سے بڑے سکور تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی

پاکستانی ٹیم نے بالآخر نہ جیتنے کا جمود توڑ ڈالا۔ تین لگاتار ناکامیوں کے بعد اسے وہ جیت مل ہی گئی جس کی وہ شدت سے منتظر تھی۔

جنوبی افریقی ٹیم نے مقابلہ خوب کیا لیکن دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا کے مصداق وہ جیت کے قریب آکر اس سے دور ہوگئی۔

کیپ ٹاون: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا دیا

پاکستانی ٹیم نے پہلی بار کھل کر بیٹنگ کی اور جنوبی افریقہ کے خلاف اپنے دوسرے سب سے بڑے سکور تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔

176 رنز کم سکور نہ تھا کہ اس کا دفاع ممکن نہ ہوسکے لیکن اننگز کے انیسویں اوور نے جو جنید خان نے کیا توازن جنوبی افریقہ کے حق میں ہوتا دکھائی دیا۔اس اوور میں انھوں نے 19رنز دے ڈالے۔آخری اوور میں جو سہیل تنویر نے کیا جنوبی افریقی بلے باز تمام تر کوشش کے باوجود دس رنز ہی بناپائے۔

جنوبی افریقی اننگز ایک بار پھر ڈی کوک اور ہاشم آملا نے جارحانہ انداز میں شروع کی تھی۔

یہ نصف سنچری شراکت آٹھویں اوور میں ڈی کوک کے آؤٹ ہونے پر ٹوٹی۔ شاہد آفریدی نے اپنی پہلی ہی گیند پر وکٹ حاصل کرنے کی عادت ایک بار پھر دوہرائی۔

وہ اگلے اوور میں بولنگ کے لیے آئے اور ڈوپلیسی کی وکٹ لے گئے اپنے تیسرے اوور میں انھوں نے اے بی ڈی ویلیئرز کو لڑکھڑادیا۔

ہاشم آملا کی 48 رنز کی اننگز سعید اجمل نے ختم کی لیکن آخری اوور میں 15 رنز دے کر انھوں نے اپنے کفایتی ہونے کا اثر زائل کردیا۔

بلاول بھٹی نے ایک بار پھر اپنی سپیڈ اور لینتھ لائن سے متاثر کیا ۔سہیل تنویر کا آخری اوور موثر رہا تاہم ان کے پہلے دو اوورز میں 24 رنز بنے جبکہ جنید خان بھی رنز کی رفتار پر قابو نہ پا کر کپتان کی پریشانی میں اضافہ ہی کر رہے ہیں۔

پاکستانی اننگز کی ابتدا میں وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ناصر جمشید اور احمد شہزاد آؤٹ آف فارم ہونے کے دلدل سے نکل نہیں پائے۔

احمد شہزاد نے سٹین کو ڈیپ مڈوکٹ پر چھکا لگایا لیکن پارنل کی گیند پر سلپ میں ہاشم آملا کے ہاتھوں دبوچے گئے۔

پارنل کے چہرے پر یہ پہلی اور آخری مسکراہٹ دیکھی گئی کیونکہ اس کے بعد انہوں نے جتنی بری بالنگ کی اس کی کوئی بھی توقع نہیں کر رہا تھا۔

ناصر جمشید نے تین چوکے ضرور لگائے لیکن اعتماد کی کمی انھیں بڑا سکور کرنے سے روکے ہوئے ہے۔ ان حالات میں بھی وہ خوش قسمت ہیں کہ بنچ پر کوئی بھی بلے باز موجود نہیں جو ان کی جگہ لے سکے لہذا وہ مسلسل کھیلے جا رہے ہیں۔

لیفٹ آرم سپنر ایرن فانگیسو کی وائیڈ گیند پر کریز سے باہر آنے کی قیمت انہیں سٹمپڈ کی صورت میں چکانی پڑی۔

محمد حفیظ اور عمراکمل کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ سوٹسوبے اور عمران طاہر بالنگ اٹیک میں شامل نہیں ہیں انھوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا خصوصاً ایرون فانگیسو ان کی جارحیت کا شکار بنے۔ مورکل بھی خود کو نہ بچا سکے۔

ڈیل سٹین نے حفیظ اور عمراکمل دونوں کی وکٹیں حاصل کیں لیکن ان دونوں کی سنچری شراکت اپنا کام دکھا چکی تھی۔

عمراکمل نے پانچ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 64 رنز کی شاندار اننگز کے دوران ٹی ٹوئنٹی میں ہزار رنز مکمل کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر بلے باز ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

محمد حفیظ نے 63 رنز کی اننگز میں تین چھکے اور پانچ چوکے لگائے۔

پاکستان کا سکور زیادہ ہوسکتا تھا لیکن گیند شاہد آفریدی کے بلے سے دور دور رہی اور وہ پیچ وتاب کھاتے رہے۔

ٹی ٹوئنٹی سیریز برابر ہوئی ۔اب ون ڈے سیریز کی باری ہے گویا اب ٹیم مصباح الحق کے حوالے۔

اسی بارے میں