اختر رسول پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نئے صدر منتخب

اختر رسول
Image caption اختر رسول کے سابق دور میں پاکستانی ہاکی ٹیم کا ریکارڈ بہت خراب رہا ہے۔

سابق اولمپیئن اختر رسول پاکستان ہاکی فیڈریشن کے نئے صدر اور رانا مجاہد سیکریٹری منتخب ہوگئے ہیں۔

دونوں عہدوں کے لیے امیداواروں کا انتخاب بلامقابلہ عمل میں آیا ہے۔

پاکستان ہاکی: اور کتنی جگ ہنسائی ہوگی؟

ٹیم کی شرمناک کارکردگی، تمغے واپس

اختر رسول کا تعلق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے وہ قاسم ضیا کی جگہ یہ عہدہ سنبھالیں گے جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

اختر رسول نے صدر کا انتخاب لڑنے کے لیے قومی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ کے عہدے سے ستمبر میں استعفیٰ دے دیا تھا جب کہ رانا مجاہد آصف باجوہ کے مستعفی ہونے کے بعد سیکریٹری بنائے گئے تھے اور انہوں نے بھی جونیئر ٹیم کے منیجر اور ہیڈ کوچ کا عہدہ چھوڑا تھا۔

انتخاب کے بعد بی بی سی اردو کے عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے اختر رسول نے کہا کہ وہ اپنا وقت پاکستانی ہاکی کی بہتری کے لیے صرف کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت پاکستانی ہاکی کو پڑھے لکھے کھلاڑیوں کی اشد ضرورت ہے اور انہیں امید ہے کہ حکومت تعلیمی اداروں میں سپورٹس کی بنیاد پر داخلوں کی پالیسی کو منظم کرے گی تاکہ باصلاحیت اور پڑھے لکھے کھلاڑی سامنے آسکیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط ٹیم کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ ڈومیسٹک ہاکی کو صحیح خطوط پر استوار کیا جائے جس کے لیے ہرممکن کوشش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ 59 سالہ اختر رسول دوسری مرتبہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بنے ہیں۔ اس سے قبل وہ اگست 1997 میں بھی صدر بنے تھے لیکن ان کے دور میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی کارکردگی غیرتسلی بخش رہی۔

پاکستانی ٹیم پہلی بار چیمپیئنز ٹرافی کے لیے کوالیفائی نہ کرسکی جبکہ قومی جونیئر ٹیم بھی جونیئر ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی تھی۔

اختر رسول بحیثیت کوچ بھی مطلوبہ نتائج دینے میں بری طرح ناکام رہے جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم پہلی مرتبہ عالمی کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرسکی جبکہ لندن اولمپکس میں ٹیم نے ساتویں پوزیشن حاصل کی تھی۔

اختر رسول انتظامی اور کوچنگ کے معاملات میں ناکام سہی لیکن بحیثیت کھلاڑی ان کا کریئر کامیاب رہا۔ وہ سنہ 1982 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان تھے۔ اس طرح وہ سنہ 1978 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم میں بھی شامل تھے۔

رانا مجاہد سیکریٹری بننے سے پہلے ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن کے معاملات میں متحرک رہے ہیں۔ وہ سنہ 1994 کا عالمی کپ جیتنے والی ٹیم میں بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں