کیا پاکستان جنوبی افریقہ کو وائٹ واش کرپائے گا

Image caption اٹھانوے رن کی ہاشم آملا کی اننگز بھی میچ نہ بچا سکی

جنوبی افریقہ کا دورہ کرنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے پاس ہفتے کو سنچورین سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے سیریز کے آخری ایک روزہ میچ میں جنوبی افریقہ کے خلاف ’وائٹ واش‘ کا موقع ہے۔

اس میچ میں جنوبی افریقہ کے دو مایہ ناز اور خطرناک ترین کھلاڑی جو میچ کا پانسہ کسی وقت بھی پلٹ سکتے ہیں‘ ڈریل سٹین اور ژاک کیلس‘ زخمی ہونے کی وجہ سے شامل نہیں ہو رہے۔

پورٹ الزبتھ میں ہونے والا دوسرا ایک روزہ میچ جنوبی افریقہ کی ٹیم کا 500واں میچ تھا۔ اس اہم میچ میں پاکستان کی ٹیم نے جنوبی افریقہ کو ایک رن سے ہرا کر نہ صرف جنوبی افریقی شائقین کے نعروں کو خاموش کر دیا بلکہ پانچسواں میچ کھیلنے کی جنوبی افریقی ٹیم کی خوشیوں کو بھی کرکرا کر دیا۔

ابوظہبی میں ہوم سیریز میں مایوس کن کارکردگی کے پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دو میچوں کو برابر کرنے اور اس کے بعد مسلسل دو ایک روزہ میچوں میں کامیابی حاصل کر کے دنیا بھر کے کرکٹ مبصرین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ سب کی نظریں اب ہفتے کے میچ پر لگی ہیں کہ کیا پاکستان کی ٹیم جنوبی افریقہ کو جنوبی افریقہ میں ’وائٹ واش ‘ کرنے والی دنیا کی پہلی ٹیم کا اعزاز حاصل کر سکے گی۔

سنہ انیس سو اکانوے میں بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے بعد جنوبی افریقہ کو آج تک کسی ٹیم نے ایک روزہ سیریز کے تمام کے تمام میچ نہیں ہارئے ہیں۔

یہ اعزاز رکی پونٹنگ کی ٹیم جس نے آسٹریلیا کو عالمی کپ میں کامیابی دلوائی تھی وہ بھی ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی اور نہ بھارت کی ٹیم یہ کارنامہ کر سکی ہے۔

انڈیا کی طرف سے اپنے جنوبی افریقہ کے دورے میں تبدیلی کے بعد پاکستان کے کھلاڑیوں کو جنوبی افریقہ میں اچانک چند میچوں کی سیریز کھیلنے کا موقع مل گیا۔ ٹیم اور خاص طور پر کپتان مصباح الحق کے خلاف ابوظہبی میں شکست کے بعد ملک میں اٹھنے والی تنقید کا طوفان ٹھنڈا نہیں پڑنے پایا تھا کہ انھیں یہ میچ کھیلنے کو مل گئے۔ جہاں انھوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی بدولت تنقید کرنے والوں کی زبانیں پلٹ دیں۔

مصباح الحق نے جنوبی افریقہ کی ٹیم کے خلاف کامیابی کو بڑی کامیابی قرار دیا۔ بلاشبہ جنوبی افریقہ میں پاکستان نے پہلی مرتبہ سیریز میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اسی بارے میں