وقار یونس اور ایڈم گل کرسٹ ہال آف فیم میں شامل

Image caption وقار یونس اپنی تباہ کن ان سونگنگ یارکر کی وجہ سے بے حد مشہور تھے اور انھیں ’ٹو کرشر‘ کہا جاتا تھا

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور فاسٹ باؤلر وقار یونس اور سابق آسٹریلوی وکٹ کیپر ایڈم گل کرسٹ کو ہال آف فیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آئی سی سی کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دونوں اس فہرست میں شامل ہونے والے بالترتیب 70ویں اور 71ویں کھلاڑی ہیں۔

وقار یونس ہال آف فیم میں شامل ہونے والے پانچویں پاکستانی کھلاڑی ہیں۔ اس سے پہلے پاکستان کے حنیف محمد، عمران خان، جاوید میانداد اور وسیم اکرم آئی سی ہال آف فیم میں شامل کیے گئے تھے۔

گل کرسٹ ہال آف فیم میں شامل19ویں آسٹریلوی کھلاڑی ہیں۔ اس سے پہلے آسٹریلیا سے سر ڈان بریڈ مین، رچی بینو، ایلن بارڈر اور ڈینس للی سمیت 18 کھلاڑی شامل کیے گئے تھے۔

آئی سی سی کے مطابق وقار یونس 11 دسمبر کو دبئی میں سری لنکا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ٹی ٹوئنٹی میچ کے موقعے پر ہال آف فیم میں شامل ہوں گے جب کہ ایڈم گل کرسٹ کو اس کے دو دن بعد پرتھ میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے ایشز ٹیسٹ میں چائے کے وقفے کے دوران ہال آف فیم میں شمولیت کی اعزاز سے نوازا جائے گا۔

وقار یونس کو بورے والا ایکسپریس کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ انھوں نے 87 ٹیسٹ میچوں میں 373 وکٹیں حاصل کیں جبکہ 262 ایک روزہ مچوں میں 416 وکٹیں لیں۔

انھوں نے 62 ایک روزہ میچوں اور 17 ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی۔

Image caption ایڈم گلکرسٹ نے اپنی جارحانہ بلے بازی سے کئی بار میچ کا نقشہ پلٹ دیا

ہال آف فیم میں شمولیت پر وقار یونس نے کہا: ’میں ان تمام لوگوں کا شکر گزار ہوں جنھوں نے مجھے اس اعزاز کے قابل سمجھا۔ میں اپنے ساتھیوں، تمام مداحوں اور حامیوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

وقار یونس نے 22 دفعہ ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں لیں جبکہ پانچ دفعہ ایک میچ میں دس یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ ٹیسٹ میں ان کی بہترین بولنگ زمبابوے کے خلاف 135 رنز کے عوض 13 وکٹیں ہیں۔

ایک روزہ میچوں میں بھی وقار یونس کی کارکردگی متاثر کن ہے۔ وہ اب تک واحد باؤلر ہیں جنھوں نے مسلسل تین ایک روزہ مچوں میں پانچ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ ایک روزہ میچوں میں ان کی بہترین کارکردگی انگلینڈ کے خلاف 36 رنز کے عوض سات وکٹیں ہیں۔

سنہ 2003 میں کرکٹ کے عالمی کپ کے بعد ریٹائر ہونے کے بعد وقار یونس کرکٹ کمنٹری اور کوچنگ کرتے ہیں۔

گل کرسٹ کا شمار نہ صرف آسٹریلیا بلکہ دنیا کے بہترین وکٹ کیپر بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے 12 سالہ کریئر میں 96 ٹیسٹ میچ کھیلے جن میں انھوں نے 5570 رنز بنائے جس میں 17 سنچریاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں وکٹوں کے پیچھے 416 کھلاڑیوں کا شکار کیا جن میں 379 کیچ اور 37 سٹمپ شامل ہیں۔

وہ چھ ٹیسٹ میچوں میں آسٹریلیا کے کپتان بھی رہے۔ ٹیسٹ میں ان کی بہترین کارکردگی جنوبی افریقہ کے خلاف 204 رنز ناٹ آؤٹ ہے۔

گل کرسٹ نے 287 ایک روزہ میچ کھیلے جس میں انھوں نے 9619 رنز بنائے۔ ان میں 16 سنچریاں اور 55 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ ایک روزہ میچوں میں ان کی بہترین کارکردگی زمبابوے کے خلاف 172 رنز ہے۔ انھوں نے وکٹ کیپر کی چیثیت سے 472 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

گل کرسٹ سنہ 1999، سنہ 2003 ، سنہ 2007 میں عالمی کرکپ جیتنے والی آسٹریلوی ٹیم کا حصہ تھے۔

اسی بارے میں