وسیم اکرم سے بولنگ کے گر سیکھنا چاہتا ہوں

Image caption عثمان شنواری کا تعلق لنڈی کوتل سے ہے، دوسرے کئی کھلاڑیوں کی طرح ان کی کرکٹ بھی گلی کوچوں میں شروع ہوئی

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے شہر لنڈی کوتل کے نوجوان فاسٹ بولر عثمان خان شنواری کا خواب تھا پاکستانی ٹیم میں شامل ہونا اور شہرت حاصل کرنا لیکن یہ خواب اتنی تیزی سے حقیقت کا روپ دھارے گا یہ خود انھوں نے بھی نہیں سوچا تھا۔

صرف چار فرسٹ کلاس میچ اور انگلیوں پر گنے جانے والے قومی ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلنے کے بعد ہی عثمان خان کا پاکستانی ٹیم میں بلاوا ماضی میں توصیف احمد، وسیم اکرم اور عمرگل کی یاد تازہ کر دیتا ہے جو برائے نام فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل کر بین الاقوامی کرکٹ کے دھارے میں شامل ہوگئے اس کے برعکس جب خالد عباداللہ پہلی بار پاکستانی ٹیم میں شامل ہوئے تو وہ 217 فرسٹ کلاس میچ کھیل چکے تھے اور موجودہ ٹیم کے بولر سعید اجمل کی بین الاقوامی کرکٹ میں آمد 79 فرسٹ کلاس میچوں کے بعد ہوئی تھی۔

عثمان شنواری اسی لیے خود کو خوش قسمت تصور کرتے ہیں۔

’میں خوش ہوں کہ میں نے جو محنت کی اس کا صلہ مجھے فوراً مل گیا۔ میں نے اس سیزن کے دونوں ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹوں میں اچھی بولنگ کی اور اب میں چاہتا ہوں کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں بھی اچھی کارکردگی دکھاؤں۔‘

عثمان شنواری کا تعلق لنڈی کوتل سے ہے ۔دوسرے کئی کھلاڑیوں کی طرح ان کی کرکٹ بھی گلی کوچوں میں شروع ہوئی۔

’ میری فیملی 2000ء میں لنڈی کوتل سے پشاور منتقل ہوگئی تھی۔ میں پڑھائی میں اچھا تھا تاہم ایک دن میرے والد نے میری بولنگ دیکھنے کے بعد مجھے کرکٹ اکیڈمی میں جانے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے کرکٹ کے معاملے میں میری بہت حوصلہ افزائی کی ہے۔‘

عثمان شنواری کو پشاور کی آئی سی اے اکیڈمی میں سابق ٹیسٹ کرکٹر وجاہت اللہ واسطی اور قاضی شفیق لالہ کی نگرانی میں دو سال پریکٹس کرنے کے بعد فاٹا کی جانب سے کھیلنے کا موقع ملا اور پھر انھوں نے انڈر 19 میں ایبٹ آباد ریجن کی نمائندگی بھی کی۔

کے آر ایل نے عثمان کو انڈر 19 ٹیم میں شامل کیا جس کے بعد وہ زرعی ترقیاتی بینک کی ٹیم میں آئے۔

’ مجھے ہمیشہ اچھے لوگوں کا ساتھ میسر آیا ہے جنھوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی اور میری کرکٹ میں بہتری لانے میں مدد کی۔

عثمان شنواری کا کہنا ہے کہ فاٹا کے علاقے میں کرکٹ مقبول ہے لیکن سہولتیں میسر نہیں ہیں۔

’ فاٹا میں کرکٹ بہت مقبول ہے، نوجوان شوق سے کھیلتے ہیں لیکن وہاں میدانوں کی کمی ہے اگر وہاں کھیلنے کی سہولتیں فراہم کردی جائیں تو کئی باصلاحیت کرکٹر سامنے آئیں گے۔‘

عثمان شنواری کی دیرینہ خواہش ہے کہ وہ وسیم اکرم سے بولنگ کے گر سیکھیں۔

’ وسیم اکرم میرے آئیڈیل ہیں، میں ابھی تک ان سے ملا نہیں ہوں، لیکن میں ان کے مفید مشوروں سے اپنی بولنگ میں بہتری لانا چاہتاہوں۔‘

عثمان شنواری کو جس کارکردگی کی بنیاد پر پاکستانی ٹیم میں جگہ ملی، وہ ٹی ٹوئنٹی کپ کے فائنل میں ان کی صرف نو رنز کے عوض پانچ وکٹیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کارکردگی کسی خاص پلاننگ کا نتیجہ نہیں تھی۔

’بس یہی سوچ کر آیا تھا کہ نارمل انداز میں بولنگ کروں گا۔ چونکہ فائنل تھا اور سامنے بڑے بڑے نام تھے لہٰذا شروع میں تھوڑا بہت دباؤ محسوس کیا لیکن بعد میں سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ عمران نذیر اور سعید اجمل ہمت بڑھاتے رہے۔ لینتھ اور لائن پر گیندیں کیں اور وکٹیں لیتا چلاگیا۔‘

اسی بارے میں