اب جو ہوگا ٹی ٹوئنٹی عالمی کپ میں ہی ہوگا

Image caption ایک بار پھر ٹاس جیت کر بعد میں بیٹنگ کرنے کا فیصلہ اس بار ’ پروفیسر‘ کے کام نہ آیا

سیریز جیت پائے نہ عالمی نمبر ایک بن سکے۔ پہلے بولنگ ایکسپوز ہوئی اور پھر ٹاپ آرڈر بیٹنگ نے حوصلے ہار دیے۔

ایک بار پھر ٹاس جیت کر بعد میں بیٹنگ کرنے کا فیصلہ اس بار ’پروفیسر‘ کے کام نہ آیا۔ گزشتہ میچ میں آفریدی کی بیٹنگ کام آگئی تھی لیکن اس بار تو کوئی بھی ٹیم کے کام نہ آسکا۔

سری لنکن ٹیم کو کھیلتا دیکھ کر قطعاً یہ احساس نہیں ہوا کہ وہ پچھلا میچ ہاری تھی۔

اپنا نواں ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے والے کوشل پریرا کی کریئر بیسٹ چوراسی رنز کی شاندار اننگز نے اپنی ٹیم کو اس مقام پر لا کھڑا کردیا تھا جہاں وہ اگر ہار جاتی تو یہ ایک عالمی ریکارڈ ہوتا کیونکہ اس سے قبل کسی بھی ٹیم نے اتنا بڑا ہدف ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں عبور نہیں کیا تھا۔

کوشل پریرا کے بارے میں سنگاکارا نے چند روز قبل ہی کہا تھا کہ یہ ایک خاص ٹیلنٹ ہے۔ اور یہ ٹیلنٹ سرچڑھ کر بولا۔

انہوں نے کسی بولر کو تعظیم نہیں دی اور کھل کر اپنے سٹروکس کھیلے جس کا اندازہ صرف انسٹھ گیندوں کی اننگز میں پانچ چوکوں اور چار چھکوں سے لگایا جاسکتا ہے۔

تلکارتنے دلشان نے بھی پاکستان کے ناتجربہ کار پیس اٹیک کو تختہ مشق بنایا۔

وہ بارہویں اوور میں 48 رنز پر آؤٹ ہوئے تو سری لنکا کی سنچری مکمل ہوچکی تھی۔

اپنا پہلا ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے سکیوگے پرسنا نے بھی اکیس رنز کی مختصر اننگز میں دو چھکوں اور دو چوکوں کے ذریعے بولرز کی سانسیں بے ترتیب کردیں۔ لیکن بولرز کی مشکلات آخر وقت تک کم نہ ہوسکیں کیونکہ کمار سنگاکارا نے بھی ناقابل شکست چوالیس رنز بنائے۔

پاکستانی بولرز میں صرف سعید اجمل کو وکٹیں ملیں اور وہ ہمیشہ کی طرح اپنے آخری اوور کے سوا تمام وقت رنز کی رفتار روکنے میں بھی کامیاب رہے۔ باقی بولرز منہ چھپاتے رہے۔

ناتجربہ کاری عثمان خان کے آڑے آئی۔ان کے لیے چار اوورز پورے کرنا مشکل ہوگیا۔

بلاول بھٹی کے لیے بھی بولنگ بھیانک خواب رہی کہ پہلے ہی اوور میں دلشان نے انہیں چار چوکے لگائے۔ ان کے اگلے اوور میں بھی سولہ ہی رنز بنے۔

شاہد آفریدی بھی کوشل پریرا کی جارحیت کا نشانہ بنے۔ پرسنا نے یہی سلوک حفیظ کے ساتھ روا رکھا۔

سری لنکا کے دو سو گیارہ رنز اس وقت تک پاکستانی ٹیم کی دسترس سے باہر تھے جب چودہویں اوور میں شاہد آفریدی کی وکٹ گرنے کے وقت سکور ایک سو اکیس تھا۔ تاہم سہیل تنویر اور سعید اجمل کی مزاحمت نے کچھ امید پیدا کی لیکن شاید دیر ہوچکی تھی۔ جو کام وہ کررہے تھے وہ ٹاپ آرڈر بیٹنگ کو کرنا چاہیے تھا۔

احمد شہزاد اور محمد حفیظ کی وکٹیں ہاتھ میں آنے کے بعد سری لنکن بولرز کے حوصلے بڑھ گئے۔ فیلڈنگ حسب معمول بہترین تھی۔

شرجیل خان کے سوا کسی بھی بیٹسمین میں اعتماد کی جھلک دکھائی نہیں دی لیکن انہوں نے بھی نصف سنچری مکمل کرکے وکٹ گنوائی۔

صہیب مقصود کو اپنا ٹیلنٹ بڑی اننگز سے ثابت کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ عمراکمل اور عمر امین وہ چیکس ہیں جو باؤنس تو ہو رہے ہیں لیکن کیش نہیں ہوپا رہے ہیں۔

سات گیندوں پر چار وکٹیں گنوانے کے بعد پاکستانی ٹیم میچ درحقیقت اسی وقت ہارگئی تھی۔

پاکستانی ٹیم کے لیے اس شکست میں بہت سے سبق موجود ہیں لیکن انہیں دور کرنے کا موقع اسے اب کسی میچ میں نہیں ملے گا کیونکہ یہ آئی سی سی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل اس کا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ تھا۔

اب تو جو اچھا ہے برا ہے عالمی مقابلے میں ہی دیکھنے کو ملے گا۔

اسی بارے میں