’سوچا کہ کرکٹ چھوڑ دوں اور شاید اسی لیے ایم بی اے کیا‘

Image caption ’ون ڈے انٹرنیشنل میں میرا آغاز چونکہ اچھا رہا اور پہلے دو میچوں میں نصف سنچریاں بنائیں لہٰذا لوگوں کی توقعات بہت زیادہ ہیں‘

ایک ایسا کرکٹر جس نے نو سال قبل فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز آف سپنر کی حیثیت سے کیا ہو اور 11ویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے صفر پر آؤٹ ہوا ہو آج اسے پاکستانی بیٹنگ لائن کے مستقبل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

صہیب مقصود کی صلاحیتوں کا ہر کوئی معترف ہے اور ان سے بے پناہ توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔ خود صہیب مقصود کو بھی اس بات کا اچھی طرح احساس ہے اور وہ ان توقعات کو مایوسی میں بدلنا نہیں چاہتے:

’ون ڈے انٹرنیشنل میں میرا آغاز چونکہ اچھا رہا اور پہلے دو میچوں میں نصف سنچریاں بنائیں، لہٰذا لوگوں کی توقعات بہت زیادہ ہیں اور مجھے پہلے سے زیادہ محنت کرنی ہوگی۔ میں متحدہ عرب امارات میں اچھا کھیلا لیکن جنوبی افریقہ میرے لیے بالکل نئی جگہ تھی۔ میں دوسرے میچ میں اچھا کھیلتے کھیلتے غلط شاٹ پر آؤٹ ہوگیا۔ انسان اپنی غلطیوں سے ہی سیکھتا ہے۔‘

صہیب مقصود نے انڈر19 کرکٹ کھیلنے سے پہلے ہی 16 سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ شروع کردی تھی جس کے بعد انھیں اس کھیل کے اتار چڑھاؤ کا بخوبی اندازہ ہوا۔

’میں نے آف سپنر کی حیثیت سے انڈر 19 کرکٹ کھیلی لیکن اس سے پہلے ہی جب میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ میں ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔ چنانچہ میں انڈر 19 کرکٹ میں واپس آیا اور بہت زیادہ محنت کی۔ ساتھ ہی میں نے بیٹنگ پر بھی توجہ دینی شروع کردی۔‘

صہیب مقصود اپنے فرسٹ کلاس کریئر میں فٹنس مسائل کا شکار رہے۔ کبھی کمر چٹخی تو کبھی ٹخنے کی تکلیف نے کرکٹ سے دور رکھا۔

’میرے کریئر میں ایسا بھی وقت آیا جب سوچا کہ کرکٹ چھوڑ دوں۔ شاید اسی ڈر نے مجھے پڑھنے پر مجبور کیا اور میں نے ایم بی اے کیا لیکن چونکہ کرکٹ کا شوق جنون کی حد تک تھا اور والد بھی چاہتے تھے کہ میں کرکٹر بنوں لہٰذا تعلیم مکمل کرنے کے باوجود میں نے بیرون ملک ملازمت کی پیشکش قبول نہیں کی کیونکہ میں سوچتا تھا کہ زندگی کرکٹ کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے۔‘

صہیب مقصود کے پاس خود کو خوش قسمت تصور کرنے کی معقول وجہ موجود ہے۔

’میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیل کر ہی اپنا شوق پورا کرتا رہا لیکن یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا۔ شاید مجھ سے بھی زیادہ اچھے کرکٹروں کو یہ موقع نہ ملا ہو لہٰذا میں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔‘

صہیب مقصود اپنے کریئر میں ژاک کیلس اور انضمام الحق سے بہت متاثر ہیں۔

’میں جب ٹیپ بال سے کھیلا کرتا تھا اس وقت سے میں ژاک کیلس کو پسند کرتا رہا ہوں۔ ان کا بیٹنگ کرنے کا انداز میں اپنایا کرتا تھا۔ اس کے بعد انضمام الحق میرے دوسرے سب سے پسندیدہ کرکٹر بنے چونکہ ہم ایک ہی شہر کے ہیں لہٰذا وہ اکثر ہمارے کلب میں آ کر نیٹ پریکٹس کیا کرتے تھے۔‘

ایسا کوئی شخص جس نے آپ کے کریئر پر گہرا اثر ڈالا ہو؟ جواب میں صہیب نے کہا کہ ملتان کے کوچ نسیم حیدر نے ان کے دل میں پاکستان کی طرف سے کھیلنے کی امنگ ڈالی:

’وہ مجھ سے کہتے تھے کہ جو لوگ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہیں وہ انوکھے نہیں ہیں، وہ بھی تمھارے جیسے ہیں۔ میرے کلب کے کوچ جاوید ملک نے میری بہت حوصلہ افزائی۔ جن دنوں میں میرے ریجن نے مجھے نہیں کھلایا اس وقت واپڈا نے مجھے بھرپور موقع فراہم کیا۔‘

اسی بارے میں