پاکستانی بولرز کے اعصاب بکھرے اور سری لنکا جیت گیا

Image caption پاکستانی ٹیم نے آخری 10 اوورز میں 92 رنز بٹورے تھے لیکن سری لنکا کے87 رنز کی اہمیت اس لیے اہم ہے کہ وہ جیت کا سبب بنے

جو کام شارجہ میں نہ ہوسکا وہ سری لنکا نے دبئی میں کر دکھایا۔

پاکستانی ٹیم کے لیے دو وکٹوں کی یہ شکست اس لیے تکلیف دہ ہے کہ میچ کے بیشتر حصے میں وہ حاوی رہی لیکن فیصلہ کن گھڑی میں بولرز کے اعصاب بکھرگئے اور سری لنکن لوئر آرڈر بیٹنگ اس پر حاوی ہوگئی۔

دبئی: درسرا ایک روزہ میچ تصاویر میں

کپتان اینجیلو میتھیوز کی 47 رنز کی اننگز کسی سنچری سے بھی بڑھ کر تھی۔

نوآن کولاسیکرا کے بتیس رنز بھی کسی طور نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔

یہ سب کچھ ایسے وقت ہوا جب پہلے میچ کی طرح سری لنکن ٹیم اپنے بڑوں ناموں والے بیٹسمینوں سے محروم ہو چکی تھی لیکن نچلے نمبر کے بیٹسمینوں کی فائٹنگ سپرٹ اسے جیت دلاگئی۔

سری لنکا کا آغاز پراعتماد تھا لیکن کوشل پریرا اور تلکارتنے دلشن دونوں عمدہ فیلڈنگ کی بھینٹ چڑھ گئی۔

Image caption جب تک سنگاکارا اور چندی مل کریز پر تھے سری لنکا کے لیے سب اچھا تھا

جب تک سنگاکارا اور چندی مل کریز پر تھے سری لنکا کے لیے سب اچھا تھا لیکن سال کے بہترین ون ڈے بولر سعید اجمل کے ہاتھوں سال کے بہترین ون ڈے بیٹسمین سنگاکارا کے بولڈ ہونے سے سری لنکن ٹیم کو زبردست دھچکہ پہنچا۔

جنید خان نے چندی مل اور تشارا پریرا کو بولڈ کر کے بنیاد ہلا دی لیکن سہیل تنویر کے دوسرے سپیل کے دو مہنگے اوورز کے نتیجے میں توازن بگڑتا ہوا محسوس ہوا اس مرحلے پر جنید خان پرسنا کو بولڈ کر کے پاکستانیوں کے چہروں پر پھر مسکراہٹ لے آئے لیکن میتھیوز ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

مصباح الحق کی فرسٹریشن بتا رہی تھی کہ میچ ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے ۔ جنید خان نے 49 ویں اوور میں 12رنز دے کر سری لنکا کو آخری اوور میں صرف چار رنز بنانے کا موقع دے دیا۔

شاہد آفریدی نے آخری اوور میں میتھیوز کی وکٹ ضرور حاصل کی لیکن وہ سری لنکا کو جیت سے نہ روک سکے۔

اس سے پہلے پاکستان کی اننگز میں یہ بات سامنے آئی کہ ہر میچ میں ایک نہ ایک پاکستانی بیٹسمین اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بڑی اننگز کھیل رہا ہے اور کسی ایک پر انحصار کی سوچ ختم ہو رہی ہے ۔

اس بار احمد شہزاد کی باری تھی جن کی سنچری نے ٹیم کو ایک بڑے سکور تک پہنچنے کا موقع فراہم کیا جسےمصباح الحق اور شاہد آفریدی نے تقویت پہنچائی ۔

Image caption فیصلہ کن گھڑی میں بولرز کے اعصاب بکھرگئے اور سری لنکن لوئر آرڈر بیٹنگ اس پر حاوی ہوگئی

مصباح الحق اپنی ناقابل شکست نصف سنچری کے دوران اس کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ 1282رنز کے سنگ میل اور ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ 14 نصف سنچریوں کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

سری لنکا کی مشکل میچ کے آغاز سے پہلے ہی تھری مانے کے ان فٹ ہونے سے شروع ہو چکی تھی اور میچ کے دوران اینجیلو میتھیوز اور پریرا کے بھی ان فٹ ہوکر بولنگ کے قابل نہ رہنے کے سبب اس میں مزید اضافہ ہوگیا اس کے باوجود اس کے بولرز 40ویں اوور تک حالات اپنے قابو میں رکھنے میں کامیاب رہے تھے لیکن آخری اوورز میں مصباح اور آفریدی کی مالنگا اور کولوسیکرا کو خوبصورتی سے ہینڈل کیا۔

مصباح الحق نے احمد شہزاد کے ساتھ سنچری شراکت قائم کی اور پھر آفریدی کے ساتھ بھی وہ نصف سنچری شراکت میں بھی شریک رہے ۔آفریدی پچھلے میچ کی طرح اس مرتبہ بھی آخری اوورز میں کُھل کر کھیلے۔

پاکستانی ٹیم نے آخری 10 اوورز میں 92 رنز بٹورے تھے لیکن سری لنکا کے87 رنز کی اہمیت اس لیے اہم ہے کہ وہ جیت کا سبب بنے۔

اسی بارے میں