پاکستان نے لنکا ڈھادی

Image caption سری لنکا کے خلاف محمد حفیظ کی مسلسل تیسری سنچری

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے مصباح الحق کی قیادت میں اس سال ساتویں ون ڈے سیریز جیت لی۔

آئرلینڈ اسکاٹ لینڈ اور زمبابوے کو کسی گنتی میں شمار نہ کیا جائے تب بھی بھارت، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا چھوٹی ٹیمیں نہیں ہیں کہ جن کے خلاف حاصل کردہ جیت پر سے نظر ہٹالی جائے۔

سری لنکا کے خلاف پانچ میچوں کی سیریز کا فیصلہ ایک میچ پہلے ہی سامنے آگیا۔ اس جیت کا کریڈٹ پاکستانی بولنگ کو جاتا ہے جس نے تیسرے میچ کی طرح اس بار بھی سری لنکن بیٹنگ کو سر اٹھانے کا موقع نہیں دیا۔ اس کے بعد محمد حفیظ کی سیریز میں تیسری سنچری نے 226 کے ہدف کوآسان بناتے ہوئے پاکستان کو آٹھ وکٹوں سے جیت دلا دی۔

یہ میچ 50 اوورز ہی کا شروع ہوا تھا لیکن آٹھ اوورز کے بعد ہی اس کی شکل واضح ہوگئی، جب عمرگل 17 گیندوں پر صرف چھ رنز کے عوض کوشل پریرا، تلکارتنے دلشان اور چندی مل کو پویلین بھیج چکے تھے۔

ان میں سے دو وکٹیں 39 سالہ کپتان کی مستعدی کی مرہون منت تھیں، جب کہ دلشان نے گیند چھوڑنے کی غلطی بیلز اڑنے کی صورت میں دیکھی۔

ٹاپ آرڈر بیٹنگ کےاس ملبے پر سنگاکارا اور اپنا پہلا ون ڈے کھیلنے والے ایشن پریانجن نے نئی عمارت کھڑی کرنے کی کوشش کی لیکن سنگاکارا کی پیش قدمی ایک بار پھر نصف سنچری سے آگے نہ بڑھ سکی۔

پریانجن نے متاثر کن بیٹنگ کی۔ وہ تین وکٹیں حاصل کرنے والے عمرگل کے دباؤ میں بھی نہیں آئے اور ان کے ایک ہی اوور میں تین چوکے لگائے جس کے بعد آفریدی اور سعید اجمل کی بولنگ پر بھی وہ گیندوں کو باؤنڈری کی راہ دکھاتے رہے لیکن 74 کے سکور پر پیڈل شاٹ کھیلنے کی کوشش میں وہ جنید خان کو وکٹ دے گئے۔گویا ان کی پہلی ہی غلطی آخری ثابت ہوئی۔

سعید اجمل نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ پاکستانی بولنگ انھی کے گرد گھومتی ہے۔

انھوں نے پہلے کولاسیکرا کی وکٹ حاصل کی اور پھر کپتان اینجیلو میتھیوز اور سینانائیکے کو ایک ہی اوور میں آؤٹ کردیا۔ انھوں نے چوتھی کامیابی لستھ مالنگا کو آؤٹ کر کے حاصل کی۔

سعید اجمل اس سال ون ڈے انٹرنیشنل میں 60 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں جب کہ ٹیسٹ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں اس سال کی ان کی وکٹوں کی مجموعی تعداد 107 ہوچکی ہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر شرجیل خان کی وکٹ جلد گنوائی جو مالنگا کو دو چوکے لگانے کے بعد میتھیوز کی لائن سے ہٹے اور بولڈ ہوگئے۔

محمد حفیظ اور احمد شہزاد کے درمیان 84 رنز کی شراکت کے دوران شائقین کو کئی خوبصورت سٹروکس دیکھنے کو ملے۔ احمد شہزاد نصف سنچری سے چھ رنز دور رہ گئے۔ صہیب مقصود نے 46 رنز ناٹ آؤٹ سے اپنا اعتماد بحال کیا لیکن یہ دن ایک بار پھر ’ پروفیسر کا رہا جنھوں نے بولرز کو پھر خوب سبق سکھایا۔

انھوں نے اس سال ون ڈے میں سب سے زیادہ پانچ سنچریوں کے شیکھر دھون کے ریکارڈ کو برابر کیا، ون ڈے انٹرنیشنل میں چار ہزار رنز بھی مکمل کیے اور اس سال ون ڈے میں اپنے رنز کی تعداد 1260 تک پہنچادی، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مصباح الحق کے 1322 رنز کے بہت قریب آ چکے ہیں۔

جمعے کو فیصلہ ہوجائے گا کہ سب سے زیادہ ون ڈے رنز پر اس سال کا اختتام کرنے والا بلے باز کون ہوگا۔

اسی بارے میں